ریونت ریڈی کی ضمانت کیلئے سلمان خورشید ہائیکورٹ میں پیش

   

عدالت کا فوری ضمانت دینے سے انکار۔ 17 مارچ تک سماعت ملتوی کردی گئی
حیدرآباد ۔ /13 مارچ (سیاست نیوز) ڈرون کیمرے کے استعمال کے الزام میں گرفتار کانگریس کے ملکاجگری رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی کی ضمانت کی پیروی کیلئے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سلمان خورشید آج حیدرآباد پہونچے ۔ تلنگانہ ہائیکورٹ میں آج بحث ہوئی جس کے بعد جج نے فی الفور ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے /17 مارچ تک فیصلہ کو ملتوی کردیا ۔ سینئر وکیل و سابقہ وزیر سلمان خورشید نے ہائیکورٹ میں اپنی بحث کے دوران یہ کہا کہ ان کے موکل ریونت ریڈی کی گرفتاری کیلئے پولیس نے سپریم کورٹ کے رہنمایانہ خطوط کو نظرانداز کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی آر پی سی کے دفعہ 41 کے تحت ریونت ریڈی کو گرفتاری سے قبل نوٹس نہیں دی گئی جو سپریم کورٹ کی خلاف ورزی ہے ۔ سلمان خورشید نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ ان کے موکل کے خلاف عائد کئے گئے آئی پی سی دفعہ 188 لاگو نہیں ہوتا کیونکہ ریونت ریڈی وہاں موجود نہیں تھے ۔ سینئر وکیل نے عدالت کو یہ واقف کروایا کہ پارلیمنٹ کا بجٹ سیشن جاری ہے اور اس پس منظر میں ریونت ریڈی کو فوری ضمانت منظور کی جائے ۔ سینئر وکیل نے عدالت سے یہ بھی درخواست کی کہ ریونت ریڈی کے خلاف جاری کئے گئے ایف آئی آر کو کالعدم کیا جائے ۔ جسٹس جی سری دیوی نے سلمان خورشید اور سرکاری وکیل کے مباحث مکمل ہونے کے بعد ریونت ریڈی کی جانب سے داخل کئے گئے تین درخواستوں پر فیصلہ /17 مارچ تک ملتوی کردیا ۔ واضح رہے کہ ریونت ریڈی کو سائبرآباد پولیس نے وزیر آئی ٹی کے ٹی راما راؤ کے فارم ہاؤز کی ڈرون کیمرے کے ذریعہ ویڈیو گرافی کی تھی جبکہ ڈرون کیمرے کے استعمال پر پولیس کا امتناع ہے ۔