ون مین شو چلانے کا الزام، جلسوں کے انعقاد پر سینئر قائدین سے مشاورت کے لیے اصرار
حیدرآباد 23 اگسٹ (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کی صدارت کی ذمہ داری سنبھالے ریونت ریڈی کو صرف ایک ماہ مکمل ہوا لیکن ابھی سے پارٹی میں ناراض قائدین سر اُبھارنے لگے ہیں۔ ریونت ریڈی چونکہ تلگودیشم سے کانگریس میں شامل ہوئے ہیں اور انتہائی کم عرصہ میں ہائی کمان نے اُنھیں پارٹی کی کمان سونپ دی جس سے سینئر قائدین میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ ریونت ریڈی نے تمام ناراض قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے اُنھیں پارٹی پروگراموں میں شامل کرنے کی کوشش کی لیکن دلت اور گریجن طبقات کے جلسوں سے متعلق فیصلے پر سینئر قائدین نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ریونت ریڈی نے 17 ستمبر تک دلتوں اور گریجن طبقات کے جلسے ہر ضلع میں منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ وہ آئندہ ماہ چیف منسٹر کے انتخابی حلقہ گجویل میں جلسہ عام منعقد کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ ریونت ریڈی کے فیصلوں پر بعض قائدین نے ناراضگی جتائی اور کہاکہ یکطرفہ طور پر اعلانات کے بجائے قائدین سے مشاورت کے ذریعہ فیصلے کئے جائیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا، رکن اسمبلی جگاریڈی، رکن کونسل جیون ریڈی، تشہیر کمیٹی کے صدرنشین مدھو یاشکی گوڑ اور سابق رکن پارلیمنٹ انجن کمار یادو نے ریونت ریڈی کو یکطرفہ فیصلوں سے گریز کرنے کا مشورہ دیا۔ جلسوں کے انعقاد پر مذکورہ قائدین نے اپنی ناراضگی جتائی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ریونت ریڈی کے ذمہ داری سنبھالنے کے بعد پارٹی میں ون مین شو چل رہا ہے۔ عوامی جلسوں میں سینئر قائدین کو تقریر کا موقع نہیں دیا جاتا اور ریونت ریڈی اپنے حامیوں کے ساتھ شو چلا رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ جلسوں میں عوام نے مدھو یاشکی، بھٹی وکرامارکا اور دیگر قائدین کو تقاریر کے درمیان ہی روک دیا اور ریونت ریڈی سے تقریر کا مطالبہ کیا۔ ناراض قائدین کا کہنا ہے کہ ریونت ریڈی اپنے حامیوں کے ذریعہ سینئر قائدین کو تقاریر سے روک رہے ہیں جس پر ریونت ریڈی نے کہاکہ معمولی گروپ اگر ہو تو اُن پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے، ہزاروں کی تعداد پر قابو پانا کسی سے ممکن نہیں ہے۔ اُنھوں نے قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ اُن کی اسٹیج پر آمد سے قبل ہی اپنی تقاریر مکمل کرلیں تاکہ کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ سینئر قائدین ریونت ریڈی کی موجودگی میں تقریر کرنا چاہتے ہیں اور وہ بھی ہر شخص کم از کم 15 تا 25 منٹ تقریر کا خواہاں ہے۔ مہیشورم کے حالیہ جلسہ میں بارش کے سبب عوام نے کسی کو تقریر کی اجازت نہیں دی جس سے قائدین میں ناراضگی ہے۔ دوسری طرف حضورآباد ضمنی چناؤ کے لئے سابق وزیر کونڈہ سریکھا کے نام کی سفارش پر بھی کئی قائدین نے اعتراض جتایا ہے۔ کونڈہ سریکھا کا شمار ریونت ریڈی کے قریبی قائدین میں ہوتا ہے لہذا ناراض قائدین اُن کے نام کے ساتھ دیگر ناموں کو ہائی کمان کے پاس روانہ کرنے پر مُصر ہیں۔ اِس معاملہ کو ہائی کمان پر چھوڑ دیا گیا ہے اور اُمید کی جارہی ہے کہ کونڈہ سریکھا کے نام کو منظوری حاصل ہوگی۔ انچارج سکریٹری مانکیم ٹائیگور نے بھی ناراض قائدین کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ پوری طرح مطمئن نہیں ہوئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ریونت ریڈی کس طرح ناراض قائدین پر کنٹرول کرپائیں گے۔
