ریونیو، بلدی و پنچایت راج کے نئے قوانین پر عمل کا فیصلہ

   

Ferty9 Clinic

20اگست کو ضلع کلکٹرس کے ساتھ چیف منسٹر کا اجلاس ، مخالفت سے بچنے حکمت عملی کی تیاری
حیدرآباد۔19اگسٹ(سیاست نیوز) چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ 20 اگسٹ کو ریاست کے تمام ضلع کلکٹرس اور اعلی عہدیداروں کے ہمراہ اجلاس منعقد کریں گے اور ریاست میں حکومت کی جانب سے محکمہ ریوینیو کے نئے قوانین کے علاوہ نئے بلدی قوانین اور پنچایت راج قوانین کے سلسلہ میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے تجاویز حاصل کریں گے۔ بتایاجاتا ہے کہ چیف منسٹر نے پنچایت راج قوانین پر مؤثر عمل آوری کے علاوہ بلدی قوانین کو مؤثر بنانے کے سلسلہ میں اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اجلاس کے دوران محکمہ ریوینیو کے قوانین کو سخت کرنے کے سلسلہ میں مسودہ قانون کی تیاری کے سلسلہ میں تجاویز حاصل کئے جانے کا امکان ہے۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اسمبلی انتخابات سے قبل شفاف حکمرانی کی فراہمی کے سلسلہ میں اقدامات اور نئے بلدی اور ریوینیو قوانین کو روشناس کرواتے ہوئے نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا اور بعد ازاں انہوں نے 2جون کو ریاست کے یوم تاسیس کے موقع پر بھی اپنے خطاب کے دوران اس کا تذکرہ کیاتھا اور گذشتہ یوم آزادی کی تقریر کے دوران بھی چیف منسٹر نے ان قوانین کا تذکرہ کیا تھا ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے پنچایت راج قوانین میں کی جانے والی ترمیم کے فوائد سے آگہی کے علاوہ ریوینیو قوانین کے سلسلہ میں اجلاس کے دوران غور و خوص کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق پرگتی بھون میں منعقد ہونے والے اس اجلاس میں چیف منسٹر نے بلدی قوانین کے سلسلہ میں جاری کردہ آرڈیننس کا بھی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے ریاست میں نئے بلدی قوانین کے نفاذ کو منظوری دی گئی تھی لیکن گورنر تلنگانہ نے اس قانون میں تبدیلی کی شکایت کے ساتھ اسے واپس کرتے ہوئے ترمیم کی سفارش کی تھی جس پر حکومت نے فوری قانون کو برقرار رکھنے کیلئے آرڈیننس جاری کردیا تھا ۔ ضلع کلکٹرس اور اعلی عہدیداروں کے اس اجلاس میں کہا جا رہاہے کہ ان تینوں قوانین کا جائزہ لیتے ہوئے ان میں ترمیم اور ان کے نفاذ کو بہتر انداز میں یقینی بنانے کے امور پر تبادلہ خیال کیاجائے گا اور جلد ہی حکومت کی جانب سے محکمہ مال کے نئے قوانین کا مسودہ پیش کرتے ہوئے اس کی منظوری کیلئے اقدامات کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ حکومت تلنگانہ کو اس بات کا اندازہ ہے کہ ریوینیو قوانین میں تبدیلی کے عمل کو بہ آسانی انجام نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اس قانون کی ملازمین اور عملہ کی جانب سے مخالفت کی جا رہی ہے۔