کسانوں اور زمینداروں کو ہراسانی، کرناٹک کا قانون اختیار کرنے ہنمنت رائو کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 17 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ میں محکمہ جات ریونیو اور پنچایت راج میں کرپشن اور بے قاعدگیوں میں اضافے کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ دونوں محکمہ جات میں سفارش یا پھر بھاری رقم ادا کرتے ہوئے عہدیدار اہم پوسٹ حاصل کررہے ہیں اور وہ حکومت کی کارروائی سے بے پرواہ ہوکر بے قاعدگیوں میں ملوث ہیں۔ شہر کے مضافاتی علاقوں بطور خاص رنگاریڈی ضلع میں حالیہ عرصہ میں پنچایت راج ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں کی من مانی اور عوام کو ہراسانی کے کئی واقعات منظر عام پر آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت رائو نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے موجودہ قوانین میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ محکمہ جات کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے کرناٹک کے ریونیو قانون کو اختیار کیا جانا چاہئے جو بدعنوانیوں اور کرپشن کو روکنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ ہنمنت رائو نے کرناٹک میں نافذ ریونیو اور پنچایت راج قوانین کو اختیار کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں مذکورہ محکمہ جات کے عہدیدار بے لگام ہوچکے ہیں اور انہیں کسی کا خوف نہیں ہے۔ عوام سے جائزہ کاموں کی تکمیل کے لیے بھاری رقومات حاصل کی جارہی ہیں۔ کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر کسانوں اور دیگر زمینداروں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ ضلع رنگاریڈی کے چیوڑلہ منڈل میں پنچایت راج ڈپارٹمنٹ کے ڈسٹرکٹ آفیسر کی جانب سے کئی جائز اور لیگل لے آئوٹس کے خلاف کارروائی پر عوام میں برہمی پائی جاتی ہے۔ موضع کندواڑہ میں ضلع پنچایت راج عہدیدار نے ضلع کلکٹر کے احکامات کا بہانہ بناکر کئی لے آئوٹس کے خلاف انہدامی کارروائی انجام دی۔ حالانکہ اس سلسلہ ضلع کلکٹر کی جانب سے کوئی ہدایت دی گئی اور نہ ہی اراضی مالکین کو کوئی نوٹس جاری کی گئی۔ نوٹس کی اجرائی کے بغیر اس طرح کی کارروائیاں عوام سے رقومات وصول کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ مقامی افراد نے بتایا کہ پنچایت راج کے ایک مخصوص عہدیدار نے ان کے محکمہ کی جانب سے لے آئوٹ کی منظوری کے متعلق دستاویزات کو ماننے سے انکار کردیا۔ مقامی افراد نے عہدیدار کے خلاف پولیس میں شکایت کی اور ضلع کلکٹر کو عہدیداروں کی من مانی سے واقف کرایا۔