ریونیو ریکارڈ کے تحفظ اور رجسٹریشن کو آسان بنانے نئی قانون سازی

   

اسمبلی میں چار بلز متعارف، رجسٹریشن کیلئے ایم آر اوز کو سب رجسٹرار کے اختیارات، چیف منسٹر کا بیان

حیدرآباد: ریاست میں ریونیو ریکارڈ اور اراضی کی معاملتوں کو ڈیجیٹلائز کرنے اور رجسٹریشن کے طریقہ کار کو آسان بنانے کیلئے چیف منسٹر کے سی آر نے تلنگانہ اسمبلی میں چار بلز متعارف کئے ہیں۔ نئے قوانین کے تحت عوام زرعی اور غیر زرعی جائیدادوں کو مجوزہ دھرانی پورٹل پر کلک کرتے ہوئے منتقل کرپائیں گے اور انہیں سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ رائیٹس ان لینڈ اینڈ پٹہ دار پاس بکس بل 2020 اور ولیج ریونیو آفیسرس کی جائیدادوں کو کالعدم کرنے والا بل پیش کیا۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے میونسپل قانون ترمیمی بل جبکہ وزیر پنچایت راج ای دیاکر راؤ نے تلنگانہ پنچایت راج ترمیمی بل اسمبلی میں پیش کیا۔ مذکورہ چاروں بلز کا مقصد ریاست میں لینڈ ایڈمنسٹریشن میں انقلابی اصلاحات متعارف کرنا ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ لینڈ ایڈمنسٹریشن نے شفافیت پیدا کرنے اور رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ انسانی مداخلت کو کم کیا جائے گا ۔ دھرانی ویب سائیٹ جس کا عوام کو انتظار تھا، وہ بہت جلد ایکٹیویٹ کردی جائے گی جس کے ذریعہ ریاست میں اراضیات کا ریکارڈ عوام کے مشاہدہ کیلئے دستیاب رہے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ رجسٹریشن کا سارا عمل سب رجسٹرار یا ایم آر او دفتر کو صرف ایک مرتبہ جاکر ڈیجیٹل طریقہ سے مکمل کیا جاسکے گا۔ حکومت نے ایم آر اوز کے اختیارات میں اضافہ کرتے ہوئے انہیں سب رجسٹرار کے اختیارات دیئے ہیں جس کے تحت وہ رجسٹریشن اور زرعی اراضیات کا میوٹیشن کرپائیں گے ۔ سب رجسٹرار کو غیر زرعی جائیدادوں کے رجسٹریشن اور میوٹیشن کا بھی اختیار حاصل رہے گا۔ عوام ایم آر او یا سب رجسٹر آفس میں کسی ایک دفتر کو جاسکتے ہیں۔ ضروری دستاویزات اور اراضی کا ریکارڈ پیش کرنے پر رجسٹریشن کا عمل مکمل ہوجائے گا اور اسے اپ ڈیٹ کردیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے وضاحت کی کہ ریاست میں 90 لاکھ جائیدادوں کو مجالس مقامی کے تحت ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے۔ اراضی اورجائیداد کی تمام تفصیلات آن لائین دستیاب رہے گی جس سے غیر مجاز اور غیر قانونی معاملتوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ ڈیٹا بیس کے تحفظ کیلئے حکومت ریاست کے مختلف مقامات پر سرورس قائم کرے گی۔ وی آر اوز اور وی آر ایز کی خدمات کی برخواستگی کے مسئلہ پر چیف منسٹر نے بتایا کہ 20,000 ولیج ریونیو اسسٹنٹس کو مختلف سرکاری محکمہ جات میں ان کی قابلیت کے اعتبار سے عہدے دیئے جائیں گے ۔ اسی طرح 5480 ولیج ریونیو آفیسرس کو مختلف سرکاری محکمہ جات میں شامل کیا جائے گا ۔ حکومت نے سرکاری خزانہ پر تنخواہوں کے تحت سالانہ 260 کروڑ کے بوجھ کے باوجود ان عہدوں کے تحفظ کا فیصلہ کیا ہے۔