ریٹائرڈ ملازمین کے بقایاجات فوری جاری کئے جائیں : ہریش راؤ

   

ریٹائرڈ ملازمین اسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات، اسمبلی میں آواز اٹھانے کا وعدہ
حیدرآباد 12 مارچ (سیاست نیوز) سابق وزیر ہریش راؤ نے حکومت اور چیف منسٹر ریونت ریڈی کو سرکاری ملازمین، اساتذہ اور ریٹائرڈ ملازمین کے مسائل پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کو اپنے حقوق کیلئے بھیک مانگنے کی نوبت آنا انتہائی افسوسناک ہے۔ آج تلنگانہ ریٹائرڈ ایمپلائز اسوسی ایشن نمائندوں نے ہریش راؤ سے ملاقات کرکے اپنے مسائل پر مشتمل یادداشت پیش کی۔ ہریش راؤ نے الزام لگایا کہ مراعات اور پنشن بقایا جات ادا نہ ہونے سے کئی ریٹائرڈ ملازمین مشکلات کا شکار ہیں۔ چند ریٹائرڈ ملازمین بقایاجات نہ ملنے کے باعث زندگی کی جنگ ہار چکے ہیں جبکہ سینکڑوں ریٹائرڈ ملازمین مختلف بیماریوں کا شکار ہوکر ہاسپٹلس میں زیرعلاج ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ بی آر ایس ریٹائرڈ ملازمین کی جدوجہد کی مکمل حمایت کریگی اور بقایاجات کی ادائیگی تک اسمبلی میں حکومت کے خلاف اٹھاتی رہے گی۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ریٹائرڈ ملازمین کو ریٹائرمنٹ بینفٹس نہ دینے کی وجہ مالی بحران نہیں بلکہ حکومت کی عدم دلچسپی ہے۔ حکومت مختلف منصوبوں اور تشہیری مہم پرکروڑوں روپئے خرچ کررہی ہے لیکن ملازمین اور ریٹائرڈ ملازمین کے بقایاجات ادا کرنے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد تقریباً 98 ہزار کروڑ روپئے کے ٹنڈرس جاری کئے گئے اور بڑے کنٹراکٹرس کو 40 ہزار کروڑ روپئے ادا کئے گئے مگر ملازمین کے تنخواہوں اور بقایاجات کی ادائیگی میں تاخیر کی جارہی ہے۔ حکومت فوری ریٹائرڈ ملازمین کے بقایاجات ادا کرے اور ان کے مسائل کو حل کرے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس اسمبلی بجٹ اجلاس میں ریٹائرڈ ملازمین کے مسائل کو موضوع بحث بنائے گی اور بقایاجات کی ادائیگی کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالے گی۔2

شہری علاقوں میں 18 ہزار مکانات کی منظوری
حیدرآباد ۔12 ۔ مارچ (سیاست نیوز)مرکز نے تلنگانہ کے شہری علاقوں میں 18123 مکانات کی منظوری دی ہے۔ پردھان منتری آواز یوجنا اربن اسکیم کے تحت یہ مکانات منظور کئے گئے۔ وزارت ہاؤزنگ اور شہری ترقی کی نگرانکار کمیٹی نے تلنگانہ کیلئے مکانات کی منظوری دی ہے۔ پراجکٹ کی مکمل لاگت 910.65 کروڑ رہے گی جس میں مرکز کی حصہ داری 273.2 کروڑ رہے جبکہ ریاستی حکومت 637.45 کروڑ خرچ کرے گی۔ مرکز سے پہلی قسط کے 109 کروڑ کی اجرائی کا فیصلہ کیا گیا ۔ تلنگانہ کے شہری علاقوں میں 12 تا 18 ماہ کے دوران مکانات کی تعمیر مکمل کی جائے گی۔1