ریپ کیخلاف سخت قانون سازی کیلئے ممتا بنرجی کا وزیر اعظم کو خط

   

ملک میں عصمت دری اور قتل کے واقعات میں اضافہ، روزانہ اوسطاً 90 وارداتیں، سخت سزا کی تجویز

کولکاتا : چیف منسٹر ممتا بنرجی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر ملک میں ریپ کی روک تھام کے لیے سخت قوانین لانے کی اپیل کی ہے ۔خط میں ممتا نے ملک بھر میں عصمت دری کے واقعات میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے فاسٹ ٹریک کورٹ کے ذریعے قصورواروں کے ٹرائل کی کارروائی 15 دن کے اندر مکمل کرنے کیلئے قانون سازی کی اپیل کی ہے ۔وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے چیف ایڈوائزر الاپن بنرجی نے جمعرات کو نوبنو میں ایک پریس کانفرنس میں اس خط کی جانکاری دی۔ جمعرات کوترنمول کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ اور آل انڈیا جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا اور مغربی بنگال سمیت تمام ریاستی حکومتوں سے درخواست کی کہ وہ مرکزی حکومت پر سخت انسداد عصمت دری کے قوانین کو نافذ کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔آر جی کارکیس میں ریاستی حکومت تنقید کی زد میں۔ سپریم کورٹ نے بھی سوال اٹھائے ہیں ۔ اس صورتحال میں ممتا نے وزیر اعظم کو خط لکھا۔ خط میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ملک میں عصمت دری اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ روزانہ اوسطاً 90 ریپ ہو رہے ہیں۔ ایسے اہم اور حساس واقعات کو روکنے کے لیے فوری طور پر سخت قوانین لانے کی ضرورت ہے ۔ خط میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ فاسٹ ٹریک عدالتوں کے ذریعے ایسے واقعات کی تیز ٹرائل کے عمل کو مکمل کرکے سزا کو یقینی بنانے کے معاملے کو بھی قانون کے دائرے میں رکھا جائے ۔ وزیراعلیٰ نے واقعے کے 15 دن کے اندر ٹرائل مکمل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔جمعرات کو، ابھیشیک نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ایک سخت انسداد عصمت دری قانون متعارف کرایا جانا چاہئے ، جو اس بات کو یقینی بنائے گا کہ واقعہ کے 50 دنوں کے اندر مجرم کی شناخت ہو اور اسے سزا دی جائے اور مجرم کو سخت ترین سزا دی جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 10 دنوں میں ملک میں عصمت دری کے 900 واقعات ہوئے ہیں۔ ہر روز عصمت دری کے 90 واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ عصمت دری کی چار شکایتیں ہر گھنٹے اور ایک ہر 15 منٹ میں درج کی جاتی ہیں۔ ابھیشیک کو لگتا ہے کہ ملک میں عصمت دری کے خلاف سخت قوانین ضروری ہو گئے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ تمام ریاستی حکومتوں کو مرکزی حکومت پر سخت انسداد عصمت دری قوانین بنانے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے ۔ اس سے کم کوئی بھی چیز خالصتاً علامتی ہوگی اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔9 اگست کی صبح ڈاکٹر کی لاش آر جی کار میڈیکل کالج کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی چوتھی منزل کے سیمینار ہال سے برآمد ہوئی تھی۔ عصمت دری اور قتل کے الزامات لگے ۔ کلکتہ پولیس نے اس واقعہ میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے ۔ بعد میں کلکتہ ہائی کورٹ کے حکم پر سی بی آئی نے واقعہ کی تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لی۔سپریم کورٹ اپنی پہل پر کیس کی سماعت کر رہی ہے ۔ چیف جسٹس کے بنچ نے واقعات کے سلسلہ کی صداقت پر سوال اٹھایا۔