ریکارڈ بارش سے جموں و کشمیر میں تباہی، 30 ہلاک

   

جموں،27اگست(یو این آئی) جموں و کشمیر میں موسلا دھار بارشوں نے تباہی مچا دی ہے ، لگاتار دو روز کی بارش کے بعد مختلف حادثات میں جانی اور مالی نقصان ہوا ہے ۔ماتا ویشنو دیوی مندر کے راستے پر مٹی کے تودے گر آنے کے سبب 30 یاتری ہلاک جبکہ 20دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، منگل کی سہ پہر تقریباً تین بجے ماتا ویشنو دیوی مندر کے راستے پر مٹی کے بھاری برکم تودے گر آنے کے نتیجے میں درجنوں یاتری ملبے کے نیچے دب گئے ۔ اب تک 30 لاشیں ملبے سے نکالی جا چکی ہیں جبکہ دو زخمی اسپتال میں دم توڑ گئے ۔ مزید افراد کے دبے ہونے کا اندیشہ ہے اور ریسکیو ٹیمیں مسلسل ملبہ ہٹا کر لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ کم از کم 20 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ شدید بارش کے باعث ویشنو دیوی یاترا مسلسل دوسرے دن بھی معطل رہی۔ حکام نے منگل کی صبح ہی ہِمکوٹی راستے پر یاترا کو روک دیا تھا، تاہم پرانے راستے پر شام تک یاترا جاری رہی، لیکن سہ پہر کے بعد بھاری بارش اور بھوسکھلن کے خدشے کے پیش نظر اسے بھی روک دیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، جموں میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 380 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جو 1910 کے بعد سے اب تک کی سب سے زیادہ بارش ہے ۔ دریا اور ندی نالے خطرے کے نشان سے کئی فٹ اوپر بہہ رہے ہیں، جن میں توی، چناب، اوج، راوی اور بسنتر شامل ہیں۔

جموں و کشمیر سے اروناچل تک بادل پھٹنے اور لینڈ سلائیڈ سے ہلاکتیں
سرینگر: 17 اگست (ایجنسیز) شمالی ہند ان دنوں شدید قدرتی آفات کی لپیٹ میں ہے۔ جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، دہلی، اتراکھنڈ اور اروناچل پردیش کے کئی حصوں میں طوفانی بارشوں، بادل پھٹنے، اچانک آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچا دی ہے۔ سڑکیں اور پل ٹوٹ گئے، کئی مکانات ڈھ گئے، ہزاروں لوگ پھنسے ہوئے ہیں جبکہ ریلوے اور ٹرانسپورٹ خدمات بری طرح متاثر ہوئی ہیںجموں و کشمیر میں مسلسل بارش نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ ڈوڈہ، کشتواڑ، ریاسی اور پونچھ سمیت کئی اضلاع میں بادل پھٹنے اور سیلاب سے کم از کم 32 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 7 یاتری بھی شامل ہیں، جو ویشنو دیوی کے یاترا راستے پر تریکوٹا پہاڑی کے قریب موجود تھے، جبکہ 21 زخمی ہوئے ہیں۔ انتظامیہ نے یاترا روکنے کی اپیل کی ہے۔

جموں میں شدید بارش کے بعد مقامی عوام سیلاب کے بعد صورتحال کا مشاہدہ کرتے ہوئے۔
جموں و کشمیر میں بارش : ہر ممکن مدد کی جائیگی: مودی
جموں : 27 اگست (اے این آئی) جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے چہارشنبہ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی سے خطے میں جاری سیلاب اور بادل پھٹنے کی صورتحال کے بارے میں بات کی۔جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مرکز حکومت ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔جموں میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے ابھی وزیر اعظم نریندر مودی سے بات کی اور انہیں صورتحال کی تفصیلات فراہم کیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مرکزی حکومت ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔وزیراعلیٰ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ کچھ ریلیف محسوس ہو رہا ہے کیونکہ بارش تقریباً رک چکی ہے اور پانی کی سطح نچلے علاقوں میں کم ہونا شروع ہو گئی ہے۔2014 میں اس پل کے اسی حصے کو نقصان پہنچا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ اس پل کے اس حصے کے ساتھ کچھ خطرہ وابستہ ہے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو۔

ببھاری بارش کے باعث جموں-سرینگر اور کشتواڑ-ڈوڈہ قومی شاہراہیں بند کردی گئی ہیں۔ متعدد پل بہہ گئے ہیں، بجلی کے کھمبے اور موبائل ٹاور زمین بوس ہونے سے وسیع پیمانے پر رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ ریلوے اور سڑک خدمات بری طرح متاثر ہیں۔

شدید بارشوں سے جموں ریلوے ٹریک کو نقصان
جموں،27اگست(یو این آئی) جموں صوبے میں ریکارڈ بارشوں اور اچانک آئے سیلابی ریلوں کے نتیجے میں ریلوے ٹریفک شدید متاثر ہوا ہے جس کے سبب چہارشنبہ کے روز 58 ٹرینوں کو منسوخ کر دیا گیا جبکہ 64 ٹرینوں کو مختلف اسٹیشنوں پر مختصر روٹ یا مختصر منزل تک محدود کر دیا گیا۔ ریلوے حکام کے مطابق، چکّی ندی کے علاقے میں شدید کٹاؤ اور فلیش فلڈز کے باعث ریل سروس کو دوبارہ معطل کر دیا گیا ہے ۔ شمالی ریلوے کے پبلک ریلیشن آفیسر جموں ڈویژن نے بتایا کہ اچانک سیلابی صورتحال کے سبب ریل ٹریفک کو فی الوقت روک دیا گیا ہے ۔ ٹرینیں اگلے احکامات تک منسوخ یا مختصر کر دی جائیں گی۔چہارشنبہ کی صبح چند گھنٹوں کے لیے ریلوے ٹریفک بحال ہوا تھا اور جموں سے چھ ٹرینیں روانہ بھی ہوئیں، لیکن چکّی ندی میں دوبارہ طغیانی کے بعد ریل سروس دوبارہ معطل کرنا پڑی۔