نئی دہلی : دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے منگل کو مرکز کے زیر انتظام دہلی کی اسمبلی میں مالی سال 2025-26 کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا، جس میں موجودہ مالیاتی بجٹ سے 31.5 فیصد زیادہ اخراجات کی تجویز ہے ۔ مسز گپتا کے پاس محکمہ خزانہ کی بھی ذمہ داری ہے ۔ بجٹ اجلاس کے دوسرے دن پیش کیے گئے بجٹ میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے 28,000 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے ۔ جب وزیر خزانہ مسز گپتا بجٹ پیش کرنے کے لیے کھڑی ہوئیں تو ایوان میں موجود بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین نے مودی-مودی کے نعرے لگائے اور میزیں تھپ تھپا کر ان کا استقبال کیا۔ اسمبلی میں مالی سال 2025-26 کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے کا بجٹ پیش کرتے ہوئے مسز گپتا نے کہا کہ یہ بجٹ نہ صرف دہلی کی مجموعی ترقی کے لیے نئی راہیں کھولے گا بلکہ ہر شعبے میں ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ دارالحکومت میں تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کی ترقی کو ایک نئی جہت دے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے بجٹ میں 28,000 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انفراسٹرکچر سیکٹر کے لیے کیے گئے انتظامات کو سڑکوں، پلوں، نکاسی آب، ٹرانسپورٹ اور دیگر عوامی خدمات کی توسیع کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ مسز گپتا نے یقین ظاہر کیا کہ یہ بجٹ دہلی کو ایک اسمارٹ اور جدید شہر میں تبدیل کرنے کی سمت ایک مضبوط قدم ثابت ہوگا۔ 27سال بعد دہلی میں برسراقتدار آنے والی بی جے پی حکومت کا آج یہ پہلا بجٹ ہے ۔
ریکھا گپتا کے بجٹ پر آتشی کی تنقید
نئی دہلی: دہلی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر آتشی نے منگل کو وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے پیش کردہ بجٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعلیم، صحت اور صفائی کے نظام کو تباہ کر دے گا۔ آج بجٹ پر اپنے ردعمل میں محترمہ آتشی نے کہا کہ ایک لاکھ کروڑ روپے کے نام نہاد بجٹ کی کسی بھی معاشی تجزیہ میں کوئی بنیاد نہیں ہے ۔ بجٹ کو دیکھ کر یہ واضح ہو گیا کہ بی جے پی نے بجٹ سے پہلے اقتصادی سروے کیوں پیش نہیں کیا۔ اگر اس ایک لاکھ کروڑ کے بجٹ کی کوئی حقیقی بنیاد ہوتی تو اقتصادی سروے ایوان میں پیش کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ میں بی جے پی حکومت کو چیلنج کرتی ہوں کہ وہ اقتصادی سروے ایوان میں پیش کرے ، جو اس بے بنیاد بجٹ کو بے نقاب کرے گی۔ بجٹ سے واضح ہو گیا کہ حکومت سرکاری سکولوں میں تعلیم کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔
دس برسوں میں پہلی بار تعلیم کے لیے اتنا کم بجٹ مختص کیا گیا ہے ۔ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) حکومت میں بجٹ کا ایک چوتھائی حصہ دیا گیا تھا۔ پہلی بار تعلیم کے لیے بیس فیصد سے بھی کم رقم مختص کی گئی ہے ۔