زائد بچے پیدا کرنے جنوبی ریاستوں کی عوام کو چندرا بابو نائیڈو کا مشورہ،مراعات کی تجویز زیر غور

   

حیدرآباد۔/20 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو نے جنوبی ریاستوں سے تعلق رکھنے والی عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ زیادہ بچے پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ہند میں ضعیف العمر افراد کی تعداد میں اضافہ کا مسئلہ پیدا ہوچکا ہے۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ آندھرا پردیش کی این ڈی اے حکومت آبادی سے متعلق مسئلہ کو ایک مشن کے طور پر اختیار کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ حکومت ایسی قانون سازی پر غور کررہی ہے جس کے تحت زیادہ بچے رکھنے والوں کو حکومت کی جانب سے مراعات اور رعایتیں دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک اور قانون سازی کا منصوبہ رکھتی ہے جس کے تحت دو سے زائد بچے رکھنے والے افراد کو ہی مجالس مقامی کے انتخابات میں حصہ لینے کا اہل قرار دیا جائے گا۔ حکومت زائد بچے رکھنے والے خاندانوں کو کئی مراعات دے سکتی ہے۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ جنوبی ہند میں ضعیف العمر افراد کی تعداد میں اضافہ کا مسئلہ درپیش ہے۔ جاپان، چین اور بعض یوروپی ممالک میں بھی ضعیف العمر افراد کی تعداد میں اضافہ کا مسئلہ درپیش ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستوں بشمول آندھرا پردیش میں یہ مسئلہ دیکھا جارہا ہے کیونکہ نوجوان آبادی ملک کی دیگر ریاستوں یا پھر بیرون ملک منتقل ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستوں میں شرح پیدائش گھٹ کر 1.6 ہوچکی ہے جبکہ قومی شرح 2.1 ہے۔ اگر اس شرح میں مزید گراوٹ آئے گی تو 2047 تک ضعیف العمر افراد کی تعداد میں بڑی حد تک اضافہ ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش کے کئی مواضعات میں ضعیف العمر افراد بچ گئے ہیں کیونکہ نوجوان دیگر علاقوں کو منتقل ہوچکے ہیں۔1