آندھرا پردیش میں ویجلینس اینڈ انفورسمنٹ حکام کی کارروائیاں
حیدرآباد۔ آندھرا پردیش میں کورونا کے علاج کیلئے زائد رقومات وصول کرنے والے خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے ویجلینس اینڈ انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ کو ذمہ داری دی گئی کہ وہ خانگی اور کارپوریٹ دواخانوں پر نظر رکھے۔ انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ نے فلائنگ اسکواڈز تشکیل دیئے ہیں جنہوں نے ابھی تک ریاست بھر میں 50 خانگی دواخانوں کے خلاف مقدمات درج کئے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ حکومت کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے کورونا مریضوں کیلئے مناسب بیڈس مختص نہیں کئے گئے۔ اس کے علاوہ علاج کیلئے بھاری رقومات وصول کی جارہی ہیں۔ حکومت نے ہر خانگی ہاسپٹل کیلئے آروگیہ سری اسکیم کے تحت 50 فیصد بستر مختص کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ غریب افراد کا مفت علاج کیا جاسکے لیکن بیشتر دواخانوں نے آروگیہ سری کے تحت علاج کو نظرانداز کردیا ہے۔ ویجلینس انفورسمنٹ عہدیداروں کو اس سلسلہ میں تقریباً 500 شکایات موصول ہوئی ہیں۔ دواخانوں کی جانب سے ادویات کی بلیک مارکٹنگ خاص طور پر ریمیڈیسیور انجکشن کو زائد قیمت پر فروخت کرنے کی شکایت کی گئی۔خانگی دواخانوں میں کم سے کم ایک دن کیلئے 40 تا60 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 4 تا5 لاکھ روپئے وصول کئے جارہے ہیں۔ کئی کارپوریٹ ہاسپٹلس نے علاج کیلئے پیاکیج مقرر کردیئے ہیں۔ عوام کی شکایت کا جائزہ لینے کے بعد ویجلینس اینڈ انفورسمنٹ کے حکام دواخانوں کے خلاف کریمنل کیسس درج کررہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے کورونا کے علاج کو مفت کرنے کے اعلان کے بعد غریب اور متوسط طبقات ہاسپٹلس کو زائد رقم ادا کرنے سے انکار کررہے ہیں۔