حکومت کو ہائی کورٹ کی ہدایت، جی او میں جرمانہ کی تفصیلات شامل کرنے سے اتفاق
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس میں کورونا کے علاج کی شرحوں کے تعین سے متعلق جی او پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ۔ ہائی کورٹ نے حکومت سے سوال کیا کہ جی او میں شرحوں کا ذکر کیا گیا لیکن خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔ عدالت نے پوچھا کہ حکومت جی او پر عمل آوری کس طرح یقینی بنائے گی۔ واضح رہے کہ حکومت نے کورونا علاج اور ٹسٹوں کے سلسلہ میں شرحوں کا تعین کرتے ہوئے جی او جاری کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر حکومت واقعی نئی شرحوں پر عمل آوری میں سنجیدہ ہے تو پھر اسے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا ذکر کرنا چاہئے تھا ۔ چیف جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس وجئے سین ریڈی نے حکومت سے کہا کہ عوام نے خانگی دواخانوں پر کارروائی کی درخواست کی جبکہ ہم نے جی او جاری کرنے کی ہدایت دی۔ آپ نے دوسری لہر کے اختتام پر جی او جاری کیا ہے۔ ڈائرکٹر پبلک ہیلت سرینواس راؤ نے عدالت کو بتایا کہ 22 جون کو جی او 401 جاری کیا گیا جس پر ججس نے کہا کہ جی او میں جرمانہ کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ جس پر ڈائرکٹر پبلک ہیلت نے اعتراف کیا کہ جی او میں ترمیمات کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے عدالت کو تیقن دیا کہ وہ خلاف ورزی کرنے والے دواخانوں پر جرمانہ کو جی او میں شامل کریں گے ۔ ججس نے کہا کہ خانگی ہاسپٹلس کو اضافہ چارجس کی وصولی سے سے روکنے بھاری جرمانے کی گنجائش رکھی جائے ۔ محکمہ صحت کو تفصیلات کے ساتھ 7 جولائی تک حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ عدالت نے کہا کہ نئی شرحوں سے متعلق جی او کی بڑے پیمانہ پر تشہیر کی جائے تاکہ عوام کو سہولت ہو اور وہ خانگی دواخانہ کو زائد رقم وصول کرنے سے روک سکیں۔