زبان سے نظام دکن کے قصیدے ، عمل تاریخ مٹانے والا

   

Ferty9 Clinic

تاریخی عمارتوں کا صفایہ کسی خفیہ مشن کا حصہ تو نہیں ؟ ۔ عوام میں سوالات ۔ حکومت کے دم چھلوں کی خاموشی اور غفلت بھی مشکوک

حیدرآباد۔ شہر میں ایک کے بعد دیگرے تاریخی عمارتوں کے انہدام کا فیصلہ چیف منسٹر کی نیک نیتی پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ نظام حیدآباد کی مسلسل تعریف کرنے والے چیف منسٹر نظام حیدرآباد کی تاریخ کو مٹانے کے درپہ پہونچ چکے ہیں۔ اپنی مرضی و خواہش کو پورا کرنے کیلئے عمارتوں کی حالت زار کو بنیاد بناکر اب عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی عمارت کو ڈھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شہر کے عظیم تاریخی ورثوں میں شمار کی جانے والی فن تعمیر کی ان شاہکار عمارتوں کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی ۔ قانون ساز ادارہ میں بلند بانگ اندازاور زوردار آواز میں نظام کی تعریف کرنے والے چیف منسٹر تلنگانہ سے عوام کو ایسی اُمید نہیں تھی کہ نظام حیدرآباد کی حقیقی تاریخ کو عوام تک پہنچانے اور ہر بچہ بچہ کو تاریخ سے واقف کروانے کا وعدہ کرنے والے چیف منسٹر کے اقدامات تاریخ کو ختم کرنے کے مترادف ثابت ہورہے ہیں۔ ہیرٹیج ورثے کا بھی لحاظ نہ رکھتے ہوئے پہلے ایرم منزل سیف آباد پیالیس اور اب اگلا اقدام عثمانیہ جنرل ہاسپٹل نشانہ پر ہے۔ ریاستی اسمبلی کے بھرے اجلاس کے علاوہ ایسے کئی مواقع ہیں جہاں چیف منسٹر نے نظام کی تاریخ کو دہرانے اور ان کی تعریف کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی بلکہ مخالفین کو اپنے روایتی انداز میں منہ توڑ جواب دیا۔ تاریخ کو مسخ کرنے اور توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی بات کرنے والے چیف منسٹر کی آواز نظام حیدرآباد کی تاریخ کے تحفظ کی دلیل بن گئی تھی اور چیف منسٹر کی اس بے باکی پر ان کی ہاں میں ہاں ملانے والوں اور تعریف کے پُل باندھنے والوں کا حال بھی نرالہ ثابت ہوا۔ اس طرح نظام دور حکومت کو دنیا بھر میں منفرد ظاہر کرنے والے اور نظام حیدرآباد کو اپنا بادشاہ تسلیم کرنے والے چیف منسٹر بادشاہ کا نام و نشان مٹانے کے اقدام کرنے لگے ہیں۔ چیف منسٹر اور ان کی تعریف کرتے نہ تھکنے والے اقلیتی قائدین کا طرز عمل عوام میں تشویش اور بے چینی کا باعث بنا ہوا ہے اور عوام میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ کئی تاریخی عمارتوں کا صفایہ کرنا کسی خفیہ مشن کا حصہ تو نہیں اور یہ سب اقدامات اس سرزمین پر سرزد ہورہے ہیں جہاں طاقت کا بھرم کرنے والے ٹھیکیدار بھی پائے جاتے ہیں۔ اپنی مرضی و منشاء کے بغیر حکومتوں کے فیصلے نہ ہونے کا دَم بھرنے والے آخر کس بھرم کا شکار ہیں یا پھر یہ بھی کسی خفیہ مشن کا حصہ تو نہیں۔ شہریوں میں آج کل کچھ ایسی ہی بحث زیر گشت ہے۔ تلنگانہ حیدرآباد کے شہری دنیا کے کسی بھی مقام پر کیوں نہ ہوں وہ پہلے عثمانین کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ یعنی عثمانیہ یونیورسٹی اس کے علاوہ شہر کی تاریخی عمارتوں کا پہلی ہی ملاقات میں تذکرہ ہوتا ہے۔ ایسی تاریخی اہمیت کی حامل ریاست تلنگانہ کا تاریخی عمارتوں کے بغیر تصور ممکن نہیں اور نہ ہی یہ بنگارو تلنگانہ کہلایا جاسکتا ہے۔