ممبئی، 25 جولائی (یو این آئی)وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے واضح اور سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہاراشٹر میں زبان کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے تشدد کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور جو افراد اس میں ملوث پائے جائیں گے ، ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مراٹھی زبان پر فخر فطری اور قابل ستائش ہے ، تاہم جو لوگ صرف اس لیے نشانہ بنائے جا رہے ہیں کہ وہ مراٹھی نہیں بولتے یا سمجھتے ، ایسی حرکات کسی بھی صورت میں قبول نہیں ۔ مسٹرفڈنویس نے یہ بات دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں چھترپتی شیواجی مہاراج کے نام پر اسٹریٹجک اور دفاعی مطالعات کے نئے مرکز کی سنگ بنیاد تقریب اور مراٹھی زبان کے لیے کسوماگراج چیئر کے افتتاح کے دوران کہی۔فڈنویس نے کہا کہ مراٹھی ایک قدیم، عظیم اور جڑوں والی زبان ہے اور ہماری درخواست پر وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے کلاسیکی زبان کا درجہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ مراٹھی پر فخر ایک قدرتی احساس ہے ، لیکن اگر اس زبان کے نام پر کسی بھی شہری کو نقصان پہنچایا جائے یا تشدد کیا جائے تو یہ ہرگز قابل قبول نہیں ہوگا اور ایسے افراد کو سخت قانونی انجام بھگتنا ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے خاص طور پر ہندوستانی تھیٹر کے میدان میں مراٹھی زبان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی زبان ہندوستانی اسٹیج کو زندہ رکھے ہوئے ہے تو وہ مراٹھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زبان کی تحقیق اور تعلیمی سطح پر اس کا مطالعہ نہایت ضروری ہے اور جے این یو میں قائم کی گئی کسوماگراج چیئر اسی مقصد کے لیے اہم کردار ادا کرے گی۔ فڈنویس نے کہا کہ ملک کی تمام زبانوں کا احترام ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے ، ہر فرد کو اپنی مادری زبان پر فخر ہونا چاہیے لیکن ساتھ ہی ہمیں دیگر ہندوستانی زبانوں کی قدر بھی کرنی چاہیے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم انگریزی زبان کو تو بآسانی قبول کر لیتے ہیں، مگر اپنی مادری زبانوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جو درست طرز عمل نہیں۔ مہاراشٹرا میں حالیہ مراٹھی اور ہندی کے تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے فڈنویس نے کہا کہ یہ صرف مراٹھی بمقابلہ ہندی کا مسئلہ نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تمام ھندستانی زبانوں کا احترام اور قبولیت ایک لازمی قومی رویہ ہونا چاہیے ۔