واشنگٹن ۔ 28 نومبر (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ بدھ کو وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کا نشانہ بننے والی نیشنل گارڈز کی خاتون فوجی سارا بیکسٹرم دم توڑ گئی ہے، جبکہ دوسرا زخمی فوجی اینڈریو وولف اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ٹرمپ نے فلوریڈا میں مارالاگو ریزورٹ پر بتایا کہ انھیں بیکسٹرم کی موت کی خبر ’’تھوڑی دیر قبل‘‘ ملی، جب وہ وڈیو لنک کے ذریعے امریکی فوج سے ’’تھینکس گیونگ‘‘ کے موقع پر بات کرنے والے تھے۔ ٹرمپ نے بیکسٹرم کو ’’انتہائی با وقار اور شان دار نوجوان‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے حملہ آور کو ’’وحشی درندہ‘‘ بھی کہا۔دوسری جانب ایف بی آئی نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اس واقعے کو ’’بین الاقوامی دہشت گردی‘‘ کے طور پر تفتیش کے لیے کھولا ہے، کیونکہ مشتبہ حملہ آور 29 سالہ افغان شہری ہے جو ماضی میں افغانستان میں امریکی افواج کے ساتھ کام کر چکا تھا۔اس حملے کو حکام نے ’’گھات لگا کر کیا گیا حملہ‘‘ قرار دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک وڈیو بیان میں فائرنگ کو ’’شیطانی فعل‘‘ کہا اور تارکینِ وطن کو امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے ’’وجودی خطرہ‘‘ قرار دیتے ہوئے افغان مہاجرین کی تمام درخواستوں پر فوری پابندی کا حکم دیا۔ ٹرمپ نے کہا ’’ہمیں ہر وہ قدم اٹھانا ہوگا جس سے ایسے غیر ملکیوں کو نکالا جا سکے جو یہاں کے نہیں یا ہمارے ملک کے لیے فائدہ مند نہیں۔‘‘جمعرات کو امیگریشن سروسز کے سربراہ جوزف ایڈلو نے بھی اعلان کیا کہ ’’خطرناک ممالک‘‘ سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کے گرین کارڈ کیس دوبارہ سختی سے جانچے جائیں گے۔