زراعت میں کیمیائی کھاد کے استعمال کیلئے شعور بیداری

   

ظہیرآباد میں ڈائرکٹر اگریکلچر بھکشا پتی کا کسانوں کے زمینوں کا مشاہدہ
ظہیرآباد۔ ڈائرکٹر اگریکلچر بھکشا پتی نے واضح طور پر کہا کہ ظہیرآباد ڈیویژن میں کسانوں کی جانب سے زیادہ کھاد اور جراثیم کش ادویات کے استعمال سے زرعی زمینات کی زرخیزی متاثر ہوکر فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے چیف سکریٹری محکمہ زراعت کی ہدایت پر یہاں ایک کھیت میں کھاد اور جراثیم کش ادویات کے استعمال کے طریقہ کار سے واقف کراتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ فی ایکر دو کیلو گرام فاسفورس کے استعمال سے نہ صرف کیمیائی کھاد کے استعمال میں کمی لائی جاسکتی ہے بلکہ پیداوار میں بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 32 منتخب کسانوں کی زمینات کی مٹی کے نمونوں کو حاصل کرتے ہوئے سوائل ریسرچ سنٹر میں تجزیہ کے لئے روانہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان مٹی کے نمونوں میں فاسفورس کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے تو محکمہ زراعت دو کیلو گرام فاسفورس فی ایکر کے حساب سے بلا معاوضہ ڈیویژن کے منتخب 32 کھیتوں کے کسانوں کو سربراہ کرے گا اور یہ کہ دیگر کسانوں میں بھی اس خصوص میں شعور بیداری مہم چلائی جائے گی۔ انہوں نے تخم ریزی سے قبل کسانوں کو زرعی عہدیداروں سے صلاح و مشورہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ اس موقع پر زرعی عہدیداران پروین، پردیپ کمار، چرن کے بشمول کاشتکاران سبھاش ریڈی، ملک ارجن اور دوسرے موجود تھے۔