کھاد تیار کرنے والی کمپنیوںپر بھی تیل کی قلت کے اثرات کا آغاز
حیدرآباد 28 مارچ(سیاست نیوز) زراعت کیلئے کھاد کی قلت نے کسانوں میں تشویش کی لہر پیدا کردی ہے اور ملک کی بیشتر ریاستوں و تلنگانہ میں بھی کھاد کی قلت پیدا ہونے لگی ہے۔ ایران ۔اسرائیل و امریکہ کے جنگی حالات اور تیل کی قلت کے منفی اثرات زراعت پر بھی مرتب ہونے لگے ہیں اور کھاد تیار کرنے والی کمپنیاں نہ صرف ہندوستان بلکہ جنوبی ایشیائی ممالک میں بند ہونے لگی ہیں ۔ جنگ کی صورتحال ملک میں موجود کھاد تیار کرنے والی فیکٹریوں کو بری طرح سے متاثر کررہی ہے ۔ کئی فیکٹریوں میں ’یوریا‘ کی پیداوار متاثر ہوچکی ہے۔ زراعت کیلئے جس طرح کھاد ضروری ہے اسی طرح کھاد کی تیاری کیلئے ایل این جی گیس ناگزیر ہے لیکن گیس کی قلت کے سبب کھاد کی تیاری میں دشواریوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔ کئی ریاستوں میں کھاد تیار کرنے والی فیکٹریوں کو بند کیا جانے لگا ہے۔ مرکز ی یا ریاستی حکومت سے کھاد کی قلت میں تاحال کوئی اقدامات کا اعلان نہیں کیاگیا لیکن قومی و بین الاقوامی میڈیا اس صورتحال پر کھل کر تشویش ظاہر کرنے لگے ہیں۔ ہندوستان کو سالانہ 40 ملین ٹن یوریا درکار ہے اور ملک میں یوریاکی گھریلو پیداوار 31ملین ٹن ہے جبکہ مابقی یوریا کی طلب درآمدات پر منحصر ہے۔ ماہ مارچ اور اپریل میں ہندوستان میں کسانوں کو 5 تا 7 ملین ٹن کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جاریہ ماہ گھریلو کمپنیوں میں پیداوار کی قلت اور برآمدات میں گراوٹ سے بھاری قلت کا خدشہ ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ شہری علاقوں میں رہنے والوں پر یوریا کی قلت کے اثرات قیمتوں میں اضافہ کی شکل میں مرتب ہوسکتے ہیں کیونکہ اگر یوریا کی قلت کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو پیداوار میں کمی آئیگی جو کہ مہنگائی کا سبب بنے گی ۔ خام تیل اور ایل این جی گیس کے حصول میں دشواریوں سے جو صورتحال پیدا ہورہی ہے اس کے نتیجہ میں کھاد تیار کرنے والی فیکٹریاں متاثر ہونے لگی ہیں۔ کھاد تیار کرنے والی صنعتوں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ اگر ایک مرتبہ صنعت کو مکمل بند کردیا جاتا ہے تو دوبارہ اس کی کشادگی میں اخراجات کے سبب بند کرنے کی بجائے پیداوار کو محدود کرکے کارکردگی جاری رکھنے کی کوشش کی جار ہی ہے لیکن اگر آئندہ دنوں میں ایل این جی گیس کی قلت کو دور نہیں کیاجاتا ہے تو فیکٹریوں کو بند کرنے کی نوبت آسکتی ہے۔3