زرعی بجٹ کو بینکرس کسانوں کے قرض معافی اسکیم پر استعمال کرنے کے اقدامات

   

پرجا بھون میں بینکرس کمیٹی کا اجلاس ، ڈپٹی چیف منسٹر اور وزراء کی شرکت اور خطاب
حیدرآباد۔18جولائی (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے فراہم کئے جانے والے زرعی بجٹ کو بینکرس کسانوں کے قرض معافی اسکیم پر استعمال کرنے کے اقدامات کریں اور جن کسانوں کے قرض اداشدنی ہیں انہیں بینکرس ان کے قرض معافی کے متعلق واقف کروانے کے اقدامات کو یقینی بنائیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر وریاستی وزیر فینانس مسٹر ملو بھٹی وکرمارک نے آج پرجا بھون میں ریاستی وزیر زراعت مسٹر ٹی ناگیشورراؤکے ہمراہ منعقدہ بینکرس کمیٹی کے اجلاس کے خطاب کے دوران دی گئی ہدایت کے دوران یہ بات کہی اور بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کسانوں کے 2لاکھ تک کے قرض معاف کرنے کے سلسلہ میں احکام کی اجرائی کے ساتھ ساتھ اب بجٹ جاری کرنے کا عمل بھی شروع کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے دو اقساط میں 2لاکھ تک کی رقومات کے قرض معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلہ کے تحت کئے جانے والے اقدامات کے طور پر حکومت کی جانب سے بنکرس کو بجٹ کی اجرائی عمل میں لائی جانے لگی ہے۔ مسٹرملو بھٹی وکرمارک نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات میں قرض کے بوجھ سے آزاد کسان کی ترقی ہے اسی لئے حکومت نے کسانوں کے دو لاکھ تک کے قرضہ جات کی معافی کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہو ںنے بینکرس کو مشورہ دیا کہ وہ حکومت کی جانب سے فراہم کئے جانے والی بجٹ کی خطیر رقم کا مؤثر طریقہ سے استعمال کرتے ہوئے ریاست کے کسانوں کی بہبود کے اقدامات میں حکومت کا تعاون کریں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے گئے اس فیصلہ کے ذریعہ تلنگانہ کے 11لاکھ کسانوں کو فائدہ حاصل ہوگا جن کے 2لاکھ تک کے قرض معاف کئے جائیں گے اور اس کے لئے ریاست میں مجموعی طور پر حکومت کی جانب سے 31ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کسانوں کے قرض معافی اسکیم کے تحت 2اقساط میں حکومت کی جانب سے یہ رقومات جاری کی جائیں گی جو کہ ماہ اگسٹ کے اوائل میں مکمل کرلی جائیں گی۔ انہوں نے بینکرس کو مشورہ دیا کہ وہ 2لاکھ سے زائد قرض رکھنے والے کسانوں کو ان کے بقایا جات کی ادائیگی کے سلسلہ میں متوجہ کروائیں اور انہیں یہ واضح طور پر بتائیں کہ ریاستی حکومت کی جانب سے 2لاکھ کے قرض معاف کئے جانے کے بعد انہیں بینک کو کتنی رقم ادا شدنی ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں کسانوں میں بدگمانی پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے علاوہ ریاستی وزیر زراعت نے بینکرس کے ہمراہ منعقدہ اجلاس کے دوران حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے رہنمایانہ خطوط کی تفصیلات پیش کی۔3