پنجاب وہریانہ ، اترپردیش، مغربی بنگال ، کیرالا میں مظاہرے
چندی گڑھ ؍ نوئیڈا: کسانوں نے جمعہ کو ملک کے کئی حصوں میں نعرے بازی کی اور سڑکوں پر راستے روک کر ان تین زرعی بلوں کے خلاف احتجاج کیا جو پارلیمنٹ نے حال ہی میں منظور کئے ہیں۔ سب سے زیادہ احتجاج پنجاب اور ہریانہ میں دیکھنے میں آیا لیکن اترپردیش، مغربی بنگال، کیرالا اور کرناٹک سے بھی مظاہروں کی اطلاع ملی۔ کئی کسان یونینوں نے آج ’’بھارت بند‘‘ کی اپیل کی تھی جس کے تحت یہ مظاہرے منعقد کئے گئے۔ زائد از 30 تنظیموں نے پنجاب بند کی علحدہ اپیل کی تھی جس کے نتیجہ میں کسان دن بھر سڑکوں پر جمع رہے اور تاجرین نے دکانات اور ترکاری کی منڈیاں بند رکھے۔ پنجاب میں بند لگ بھگ کامل رہا۔ دہلی کی اترپردیش سے متصل سرحد پر سینکڑوں کسانوں کو روکا گیا جو پیدل، ٹو وہیلرس اور ٹریکٹر۔ ٹرالیوں کے ذریعہ پہنچے تھے۔ وہ قومی دارالحکومت میں داخل ہونے کوشاں تھے۔ ان کے ایجی ٹیشن کے سبب نوئیڈا اور غازی آباد میں ٹریفک میں خلل پڑا۔ شہر میں داخلہ سے روکنے پر کسانوں نے روڈ پر چکہ جام کیا جہاں بھارتیہ کسان یونین کے عہدیداروں نے انہیں مخاطب کیا۔ بی جے پی کے نظریہ ساز دین دیال اپادھیائے کے یوم پیدائش کے موقع پر آج پارٹی قائدین اور وزیراعظم نریندر مودی نے پھر ایک بار نئے قوانین کا دفاع کیا لیکن کسان یونینوں اور اپوزیشن پارٹیوں کا کہنا ہیکہ ان قوانین کے سبب اقل ترین امدادی قیمت (ایم ایس پی) سسٹم ختم ہوجائے گا۔ مغربی بنگال میں کسانوں کے بائیں بازو کی پارٹیوں کے حمایتی اداروں نے احتجاج منظم کیا۔ سی پی آئی (ایم) کی کسان شاخ اور دیگر حلیف پارٹیوں نے مختلف اضلاع میں ریالیاں نکالے۔ کرناٹک میں بھی بنگلورو کے بشمول کئی جگہ مظاہرے ہوئے۔