کورونا بحران کے دوران مرکز نے تلنگانہ کو صرف 290 کروڑ روپئے جاری کئے : کے ٹی آر
حیدرآباد :۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے کہا کہ اگر زرعی بل تاریخی ہے تو کسانوں کی جانب سے جشن کیوں نہیں منایا جارہا ہے اور کیوں این ڈی اے حلیف مستعفی ہورہے ہیں ۔ ٹیوٹر پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کے ٹی آر نے مرکزی حکومت سے یہ سوال کیا اور ساتھ ہی تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے کی جانب سے کورونا بحران کے دوران ریاست تلنگانہ کو مرکزی حکومت کی جانب سے 7 ہزار کروڑ روپئے کے فنڈز جاری کرنے کے دعویٰ کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف 290 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ہیں ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ریاست میں ایک ہفتہ قبل اسمبلی میں حکومت کی جانب سے نیا ریونیو قانون متعارف کرایا گیا جس کا خیر مقدم کرتے ہوئے کسانوں نے ریاست بھر میں جشن منایا ہے ۔ ٹی آر ایس نے کسان دوست ریونیو بل متعارف کرایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بل پر اسمبلی میں تفصیلی مباحث ہوئے اور بل کو مکمل اتفاق رائے سے منظور کیا گیا ۔ حکومت نے اراضی تنازعات کے مستقل حل کے لیے بل تیار کیا ہے ۔ جس پر کسانوں نے چیف منسٹر کی تصویر کو کھیتوں میں دودھ سے دھلایا ۔ بیل بنڈیوں اور ٹریکٹرس پر ریالیاں منظم کرتے ہوئے چیف منسٹر سے اظہار تشکر کیا گیا ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ جھوٹ پر بی جے پی کی بنیاد پڑی ہے جس کی وجہ سے اس کے قائدین کو جھوٹ کو اُڑھنا بچھونا بنا لیے ہیں ۔ کورونا بحران کے موقع پر مرکزی حکومت نے ریاست تلنگانہ کو صرف 290 کروڑ روپئے جاری کئے ۔ مگر بنڈی سنجے کے علاوہ بی جے پی کے دوسرے ارکان پارلیمنٹ 7 ہزار کروڑ روپئے جاری ہونے کی جھوٹی تشہیر کررہے ہیں ۔ فنڈز کی اجرائی سے متعلق مرکز کے نوٹ کو کے ٹی آر نے اپنے ٹیوٹر پر جاری کیا ۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے بتایا کہ 18 ستمبر کو بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ بنڈی سنجے نے لوک سبھا میں سوال کیا تھا کہ کورونا بحران کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے تلنگانہ کو کتنا فنڈز جاری کیا گیا ہے جس کا تحریری جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر آشونی کمار چوبے نے بتایا کہ کورونا بحران سے نمٹنے کیلئے مرکزی حکومت نے سال 2019-20 میں 33.40 کروڑ اور سال 2020-21 میں 256.89 کروڑ روپئے جاری کیا ہے ۔ بی جے پی کے قائدین جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔۔