زرعی بل کے خلاف جمعہ کو تمام تلنگانہ اضلاع میں کانگریس کا احتجاج

   

کسانوں کی بجائے کارپوریٹ شعبہ کی حوصلہ افزائی، اتم کمار و ریونت ریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد: کانگریس ارکان پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی و ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت کے زرعی بل سے کسانوںکا نقصان ہے جبکہ کارپوریٹ سیکٹر کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے کسانوں کی مخالفت کی پرواہ کئے بغیر دونوں ایوانوں میں زرعی بل کو منظوری دی ۔ زرعی بل کی منظوری کے ذریعہ اڈانی اور امبانی جیسے سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے کوشش کی گئی ہے۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی اور ریونت ریڈی نے بی جے پی حکومت پر کسانوں کے مفادات صنعت کاروں کے ہاتھوں فروخت کرنے کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ 25 ستمبر کو مودی حکومت کی مخالف کسان پالیسیوں کے خلاف تلنگانہ بھر میں ایجی ٹیشن منظم کیا جائے گا ۔ کسانوں کی تنظیموں کے تعاون سے کانگریس احتجاج منظم کرے گی ۔ تمام ضلع ہیڈکوارٹرس اور اسمبلی حلقوں میں بڑے پیمانہ مظاہروں کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے کسانوں کی پیداوار کی امدادی قیمت سے محروم کرنے کی کوشش کی ہے۔ دونوں ایوانوں میں جمہوری طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے بلز منظور کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا میں اپوزیشن جماعتوں نے بل کی مخالفت کی لیکن نائب صدر نشین نے ووٹنگ کی بجائے نداعی ووٹ سے بل کی منظوری کا اعلان کیا ۔ زرعی قانون کے ذریعہ کسانوں کو پیداوار کی فروخت کے حق سے محروم کردیا گیا ہے ۔ بل کی منظوری سے ملک بھر میں کسان امدادی قیمت کیلئے کارپوریٹ اداروں کے آگے مجبور ہوجائیں گے ۔ مرکزی حکومت نے غذائی اجناس کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی نہیں کی جس کے نتیجہ میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ مخالف کسان بل کی منظوری کا خمیازہ بی جے پی کو بھگتنا پڑے گا ۔ کسان اپنی پیداوار کی قیمت طئے کرنے سے محروم ہوجائیں گے ۔ ملک بھر میں کسان پہلے ہی مسائل کا شکار ہیں اور خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قانون سے دستبرداری تک ملک بھر میں احتجاج جاری رہے گا ۔