رنگاریڈی ضلع میں کسانوں پر لاٹھی چارج کی مذمت، ملو روی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔ 5 ستمبر (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کے نائب صدر ڈاکٹر ملو روی نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر حکومت نے مختلف محکمہ جات کی کارکردگی کو متاثر کردیا ہے۔ زراعت، آبپاشی، برقی اور دیگر شعبہ جات میں دھاندلیوں کے نتیجہ میں عوام اسکیمات کے فوائد سے محروم ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ملو روی نے کہا کہ کے سی آر نے کسانوں کی بھلائی کے بلند بانگ دعوے کیے تھے لیکن آج تلنگانہ میں کسان معاشی مسائل سے دوچار ہیں اور خودکشی پر مجبور ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسان اپنے مسائل کے حل کے لیے سڑکوں پر آئیں تو پولیس کے ذریعہ لاٹھی چارج کیا جارہا ہے۔ رنگاریڈی ضلع میں پالمور پراجیکٹ کے لیے جب کسانوں نے احتجاج کیا تو ان پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی پراجیکٹس کے لیے جو اراضیات حاصل کی گئی تھیں ان کا معاوضہ ادا نہیں کیا گیا۔ 2013ء لینڈ ایکویزیشن ایکٹ کے تحت کسانوں کو معاوضہ ادا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کولہا پور کے رکن اسمبلی ہرش وردن نے سابق میں کسانوں کے ساتھ مل کر احتجاج کیا تھا لیکن ان دنوں کسانوں کو دھوکہ دے کر کے سی آر کے ساتھ شامل ہوچکے ہیں اور انہوں نے حکومت کے خلاف دائر مقدمہ سے دستبرداری اختیار کرلی۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو پولیس نے گرفتار کیا جس سے علاقے میں کشیدہ ماحول ہے۔ کانگریس قائدین نے جب کسانوں کے مسائل کا جائزہ لینے کی کوشش کی تو انہیں دورے سے روک دیا گیا۔ مولی روی نے کسانوں اور کانگریس قائدین کی گرفتاری کی مذمت کی اور فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ ملو روی نے دوباک منڈل میں یوریا کے لیے کسان کی موت پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ریاست بھر میں کھاد اور بیج کے لیے کسان کافی پریشان ہیں۔ اس سلسلہ میں صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے تین دن قبل چیف منسٹر کو مکتوب روانہ کیا تھا۔ ملو روی نے کے سی آر کو مخالف کسان قرار دیا اور کہا کہ حکومت کو کسانوں کے مسائل کی یکسوئی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے کسانوں کے تحفظ اور انہیں درکار یوریا کی بروقت سربراہی کا مطالبہ کیا۔