دہلی : متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف پارلیمنٹ کے باہر کسانوں کا مظاہرہ جاری ہے اور پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن پارٹیاں آواز اٹھا رہی ہیں۔ اس درمیان کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے پارلیمنٹ کے باہر کسانوں کے مظاہرہ میں شرکت کی اور ان کے ساتھ اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ اس سلسلے میں انھوں نے ایک ٹوئٹ بھی کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’وہ (حکومت)جھوٹ، ناانصافی، تکبر پر بضد ہیں، ہم سچ، بے خوف، متحد یہاں کھڑے ہیں۔ جے کسان۔‘‘ اس ٹوئٹ کے ساتھ انھوں نے پارلیمنٹ میں کسانوں کے مظاہرہ کی تصویر بھی شیئر کی ہے جس میں وہ بھی کھڑے نظر آ رہے ہیں۔کسان قائدین اور تنظیمیں زرعی قوانین کے خلاف پارلیمنٹ اجلاس کے دوران احتجاج کررہی ہیں ۔
جنتر منتر پر ’کسان سنسد‘ کا انعقاد تحریک جاری رکھنے کا عزم
نئی دہلی: زرعی اصلاحات کے قوانین کے خلاف احتجاج میں متحدہ کسان مورچہ کی جانب سے جمعرات کے روز قومی دارالحکومت دہلی میں واقع جنتر منتر میں ‘کسان سنسد‘ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ان کے مطالبات کی تکمیل تک تحریک جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر کسان رہنما یوگیندر یادو نے کہا کہ مرکزی حکومت کسان مخالف ہے اور اس نے کسانوں کی توہین ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کسانوں کی تنظیموں کی ایک تحریک ہے، جن میں سے کچھ سیاسی نظریہ بھی رکھتے ہیں۔ ملک میں یہ پہلا موقع ہے جب ووٹرز نے ایک وہپ جاری کیا ہو۔کسانوں کی جانب سے زرعی قوانین کیخلاف گذشتہ 7ماہ سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔