زرعی قوانین کی مخالفت کیلئے اسمبلی اجلاس کی طلبی کا مطالبہ

   

چیف منسٹر کے سی آر کوکانگریس مقننہ پارٹی قائد بھٹی وکرامارکا کا مکتوب
حیدرآباد:کانگریس مقننہ پارٹی قائدبھٹی وکرامارکا نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے مرکزی زرعی قوانین کے خلاف قرارداد کی منظوری کے لئے اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ مخالف کسان قوانین کی ملک بھر میں مخالفت کی جارہی ہے اور کئی ریاستی اسمبلیوں میں قوانین کے خلاف قرارداد منظور کی گئی ۔ ملک بھر میں کسانوں کے احتجاج کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے قوانین پر حکم التواء جاری کردیا۔ سپریم کورٹ نے موجودہ بحران کی یکسوئی میں ناکامی پر مرکز کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ کسانوں کا احتجاج ان کی زندگی اور موت سے جڑا مسئلہ ہے۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ ہزاروں کسان گزشتہ دیڑھ ماہ سے دہلی کی سرحد پر احتجاج کر رہے ہیں، ان کا مطالبہ قوانین سے دستبرداری ہے اور وہ سپریم کورٹ کی قائم کردہ کمیٹی سے بات چیت کرنے تیار نہیں ہے۔ کے سی آر نے ابتداء میں مرکزی قوانین کی مخالفت کی تھی اور کسانوں کے بھارت بند کی تائید کی تھی لیکن بعد میں ٹی آر ایس نے اپنا موقف تبدیل کرلیا ہے ۔ انہوں نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ مرکزی قوانین کی مخالفت کرتے ہوئے تلنگانہ میں کسانوں کی زرعی پیداوار کی خریدی کا آغاز کریں ۔ حکومت نے جو مراکز بند کردیئے تھے، انہیں فوری بحال کیا جائے تاکہ کسان اقل ترین امدادی قیمت پر اپنی پیداوار فروخت کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ دورہ دہلی کے بعد کے سی آر نے اپنا موقف تبدیل کرلیا ہے جو کسانوںکیلئے نقصان دہ ہے ۔ کانگریس پارٹی نے پارلیمنٹ میں مرکزی قوانین کی مخالفت کی اور ملک بھر میں کانگریس کا احتجاج جاری ہے۔ کسانوں سے انصاف تک کانگریس کا احتجاج جاری رہے گا۔