زرعی قوانین کے بعد کے سی آر کا دوسرا یو ٹرن

,

   

Ferty9 Clinic

آیوشمان بھارت اسکیم پر تلنگانہ میں عمل آوری، آروگیہ شری سے مربوط کرنے کا اعلان
حیدرآباد: مرکز کے زرعی قوانین پر رویہ میں تبدیلی کے بعد ٹی آر ایس حکومت نے دوسری مرتبہ یو ٹرن لیتے ہوئے مرکز کی آیوشمان بھارت اسکیم پر تلنگانہ میں عمل آوری سے اتفاق کیا ہے۔ نریندر مودی حکومت کی جانب سے غریبوں کو مفت علاج سے متعلق آیوشمان بھارت اسکیم کو تلنگانہ حکومت نے یہ کہتے ہوئے قبول نہیں کیا تھا کہ ریاست میں پہلے ہی اس سے بہتر آروگیہ شری اسکیم موجود ہے ۔ بی جے پی کی جانب سے اس مسئلہ پر کے سی آر کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا ۔ حالیہ انتخابی ناکامیوں کے بعد کے سی آر نے مرکز کے ساتھ مفاہمت کا رویہ اختیار کرلیا ہے۔ گزشتہ دنوں مرکز کے زرعی قوانین کے عین مطابق فیصلے کرتے ہوئے کسانوں سے پیداواری اشیاء کی عدم خریدی کا اعلان کیا گیا ۔ کسانوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ ملک میں جہاں چاہے اپنی پیداوار فروخت کرسکتے ہیں۔ مرکز کی آیوشمان بھارت اسکیم سے اتفاق کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کو چیف سکریٹری سومیش کمار کی جانب سے اطلاع دی گئی ۔ اسکیم کے بارے میں نریندر مودی نے ریاستوں کے چیف سکریٹریز کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کی تھی جس میں سومیش کمار نے وزیراعظم کو بتایا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ میں اسکیم پر عمل آوری سے اتفاق کیا ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ سابقہ موقف سے بالکل برعکس ہے۔ ملک میں تلنگانہ کے بشمول چند ریاستوں نے آیوشمان بھارت اسکیم پر عمل آوری سے انکار کیا تھا ۔ اسکیم کے بارے میں چیف منسٹر نے اسمبلی میں بارہا یہ کہا تھا کہ مرکزی اسکیم سے بہتر آروگیہ شری اسکیم ہے ۔ وزیر صحت ای راجندر اور وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے بھی آروگیہ شری اسکیم کو مرکزی اسکیم سے بہتر قرار دیا تھا ۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ آروگیہ شری اسکیم کے تحت 949 مختلف علاج کئے جاتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے سنگین امراض کی صورت میں دو لاکھ تا 13 لاکھ روپئے کا انشورنس فراہم کیا جاتا ہے ۔ آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت پانچ لاکھ روپئے تک علاج کی سہولت حاصل ہے۔ حکومت کے اچانک فیصلہ سے سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ آروگیہ شری اسکیم کے تحت ہر سال تقریباً 85 لاکھ خاندانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے اور حکومت سالانہ 1330 کروڑ خرچ کر رہی ہے۔ مرکزی اسکیم سے سالانہ 26 لاکھ خاندانوں کو 250 کروڑ روپئے تک علاج کا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ حکومت نے مرکزی اسکیم کو تلنگانہ میں اختیار کرنے کا فیصلہ تو کیا ہے لیکن اس سلسلہ میں محکمہ صحت کو رہنمایانہ خطوط کی اجرائی ابھی باقی ہے۔