زندگی بے حال ، ہر شخص حالات سے مایوس

   

کورونا وباء کی وجہ ہر علاقہ میں عجیب و غریب صورتحال
نرمل : (جلیل ازہر):۔ کورونا کی وباء اور اموات کے تسلسل نے ہر علاقہ میں عجیب و غریب صورتحال پیدا کردی ہے کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم پُرسکون سے ہیں یہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ زندگی سبھی کیلئے وہی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی دل سے جی رہا ہے تو کوئی دل رکھنے کیلئے جی رہا ہے کسی بھی شخص سے پوچھو تو یہی کہہ رہا ہے کہ اس وبا کے بعد ساری دنیامیں جو حالات رونما ہوئے ہیں اس کے بارے میں کس انداز سے تبصرہ کیا جائے سمجھ میںنہیں آتا رات دیر گئے فون کی گھنٹی بجتی ہے تو ایک قسم کا خوف طاری ہوجاتا ہے کہ کہاں سے کیا اطلاع ہے ؟ حالات نے ایسی کروٹ لی ہے کہ کوئی رشتہ دار یا دوست احباب آپس میں ملاقات کرتے ہیں توان کے لہجے اور رویئے بتاتے ہیں کہ وہ حالات سے کس قدر مایوس ہوچکے ہیں جبکہ معلوم ہے سب کو زندگی بے حال ہے لوگ پھر بھی پوچھتے ہیں کہ کیا حال ہے ایسی صورتحال کا سامنا ہر شہری کررہا ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈاکٹر کی ہدایت پر بیماری کے خوف سے فوری غذا چھوڑ رہے ہیں لیکن آخرت کے خوف سے گناہ نہیں چھوڑا جاتا دنیا جانتی ہے کہ اللہ جب ’’ بہترین ‘‘ سے نوازتا ہے تو پہلے ’’ بدترین ‘‘ سے گذارتا ہے، مومن کو بھی چاہئے کہ مال و دولت کی زکوۃ نکالتے رہا کریں اس لئے کہ جب باغبان انگور کی بے کار شاخیں تراش دیتا ہے تو اس پر زیادہ انگور آتا ہے ۔ صدقہ بھی بیماریوں اور بلاؤں کو ٹالتا ہے اس لئے کہ کوئی چیز تقدیریں نہیں بھی لکھی ہے تو پھر بھی دعا ضرور کرنی چاہئے کیونکہ تقدیر کے سامنے ہم بے بس ہیں تقدیر لکھنے والا تو بے بس نہیں ہے، اللہ جلد سے جلد سارے عالم میں اس وبا سے سب کو نجات دلائے ۔