کانگریس قائد راہول گاندھی کا ’جین زی‘ کو پیغام،این آر آئی طلبہ سے ملاقات
نئی دہلی ۔8؍فروری ( ایجنسیز )حال ہی میں متحدہ عرب امارات سے آئے کچھ این آر آئی طلبا نے راہول گاندھی سے ملاقات کی، جس کی ویڈیو انہوں نے اپنے یوٹیوب چینل پر جاری کی ہے۔ اس ملاقات میں نوجوانوں نے شناخت، مقصد، پیشے اور شوق میں توازن، بے چینی، خود اعتمادی کی کمی اور سماجی فیصلوں جیسے موضوعات پر سوالات کیے، جن پر راہول گاندھی نے تفصیل سے گفتگو کی۔ویڈیو میں ایک طالب علم نے پوچھا کہ اکثر طلبا یہ سمجھ نہیں پاتے کہ وہ اپنے پیشے کو اپنے شوق کے ساتھ کیسے جوڑیں۔ اس پر راہول گاندھی نے کہا کہ انسان کو وہی کرنا چاہیے جو وہ دل سے کرنا چاہتا ہو، بشرطیکہ اس کی نیت درست ہو۔ ان کے مطابق صحیح ارادہ اور مثبت رویہ زندگی میں راستہ متعین کرتے ہیں۔گفتگو کے دوران ’بھارت جوڑو یاترا‘ کا بھی ذکر ہوا۔ راہول گاندھی نے کہا کہ اس یاترا سے انہوں نے یہ سیکھا کہ انسان کی حد وہ نہیں ہوتی جو وہ خود سمجھتا ہے بلکہ اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو اپنی زندگی کا سفر اپنی سوچ اور خواہش کے مطابق طے کرنے کا حق ہونا چاہیے اور اسے مذہب یا کسی اور شناخت کی بنیاد پر محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ زندگی کبھی سیدھی لکیر میں نہیں چلتی۔ ان کے مطابق بعض لوگ ہر قدم پہلے سے طے کرنا چاہتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ لچکدار رہیں اور ثابت قدمی اختیار کریںکیونکہ یہی دو خصوصیات انہیں آگے بڑھنے میں مدد دیں گی۔کامیابی کی تعریف کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ اصل کامیابی ہر صورتحال میں خود کو پْرسکون اور مطمئن رکھنا ہے۔
آسام بی جے پی کے ’اقلیت مخالف‘ ویڈیو پر کانگریس کا سخت ردعمل
گوہاٹی ۔ 8؍فروری( ایجنسیز )آسام میں بی جے پی کے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈل سے شیئر کی گئی ایک اقلیت مخالف ویڈیو نے سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد کانگریس پارٹی نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے نہ صرف انتہائی گھناؤنا اور تشویش ناک قرار دیا بلکہ اسے سماج میں نفرت اور تشدد کو ہوا دینے کی خطرناک کوشش بتایا۔کانگریس کے مطابق آسام بی جے پی کے پردیش ہینڈل سے پوسٹ کیے گئے اس ویڈیو میں وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کو علامتی انداز میں مسلمانوں پر ’پوائنٹ بلینک‘ رینج سے فائر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ویڈیو کے ساتھ ‘‘پوائنٹ بلینک شوٹ’’ جیسا کیپشن درج تھا۔ اس کے علاوہ اس میں آسامیا زبان میں ایسے جملے بھی دکھائے گئے جن میں ’غیر ملکیوں سے آزاد آسام‘، ’کوئی رحم نہیں‘ اور ’تم پاکستان کیوں نہیں گئے‘ جیسے الفاظ شامل تھے۔ویڈیو کے بعض حصوں میں وزیر اعلیٰ کو رائفل سے نشانہ لگاتے اور بعد میں مغربی طرز کے لباس میں دکھایا گیا، جسے ناقدین مسلمانوں کے خلاف سخت کارروائی کی علامتی پیش کش قرار دے رہے ہیں۔کانگریس نے اپنے آفیشل بیان میں کہا کہ اس مواد کو محض ٹرولنگ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پارٹی کے مطابق یہ ویڈیو اقلیتوں کے خلاف ٹارگیٹڈ تشدد کی ستائش اور اس کی ذہنی تیاری کا اظہار ہے۔ کانگریس نے الزام عائد کیا کہ اس طرح کے پیغامات سماج میں زہر گھولنے اور فرقہ وارانہ دشمنی کو معمول بنانے کی کوشش ہیں، جو ملک کو نفرت کی بھٹی میں جھونکنے کے مترادف ہو سکتے ہیں۔کانگریس کے جنرل سیکریٹری کے سی وینو گوپال نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے آفیشل اکاؤنٹ سے ایسا مواد جاری ہونا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ویڈیو نسل کشی کے لیے اکسانے کے سوا کچھ نہیں اور اسے کسی صورت معمولی مواد سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ زہر اوپر سے پھیلایا جا رہا ہے اور اس کے لیے جوابدہی طے ہونی چاہیے۔خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما حالیہ دنوں میں اپنے بعض بیانات کو لے کر بھی تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ ڈگبوئی میں ایک پروگرام کے دوران انہوں نے ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے تناظر میں ’میاں‘ مسلمانوں کو تنگ کرنے کی بات کہی تھی۔ اسی طرح رکشہ کرایہ کے حوالے سے دیا گیا ان کا بیان بھی تنازع کا سبب بنا، جسے ناقدین نے اقلیتی برادری کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ اسمبلی انتخابات کی آہٹ کے درمیان ووٹوں کے دھرویکرن کی سیاست کو ہوا دی جا رہی ہے۔کانگریس نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی سے اس واقعہ کی مذمت کی امید کم ہے، اس لیے عدلیہ کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں مضبوطی سے مداخلت کرے۔ پارٹی نے زور دیا کہ ایسے واقعات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے کیونکہ یہ نہ صرف اقلیتوں میں خوف پیدا کرتے ہیں بلکہ ملک کے سماجی تانے بانے اور امن و امان کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے پاس طاقت یا دولت ہو لیکن وہ دوسروں اور ماحول کے لیے احترام نہ رکھتا ہو تو اسے کامیاب نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے مطابق ناکامی اور کامیابی ایک ہی عمل کے دو حصے ہیں اور ناکامی کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ملاقات کے دوران بعض طلبا نے اعتراف کیا کہ وہ بولتے وقت گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں اور دوسروں کے فیصلوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس پر راہول گاندھی نے کہا کہ معاشرہ اکثر افراد کو لیبل لگا کر محدود کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اگر انسان کو یقین ہو کہ وہ درست راستے پر ہے تو اسے دوسروں کی رائے سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ویڈیو کے اختتام پر انہوں نے نوجوانوں کو سچائی اور عدم تشدد کو اپنی زندگی کا بنیادی اصول بنانے کی نصیحت کی اور کہا کہ خود سے سچا رہنا ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔