فوڈ پارک میں مختلف پودوں، گھاس اور ترکاریوں کی کاشت کی جارہی ہے
حیدرآباد ۔ 23 فبروری (سیاست نیوز) نہرو زوالوجیکل پارک میں موجود جانوروں کو اچھی غذا فراہم کرنے کیلئے ایک فوڈ پارک اس کا اہم کارنامہ ہے۔ زو کے عہدیداروں نے زو میں آٹھ ایکر پر ایک فوڈ پارک بنایا ہے اور مختلف پودوں وغیرہ کی کاشتکاری کی۔ زو پارک عہدیداروں کے مطابق انہوں نے گنا، پتے والی ترکاریوں، شہتوت، پپئی اور گھاس کو اگایا ہے اور کیلے کی کاشت کاری کی ہے۔ حالانکہ اس فوڈ پارک کیلئے فاؤنڈیشن چند سال قبل رکھا گیا تھا لیکن اس کے نتائج دیر سے آنا شروع ہوئے ہیں۔ عہدیداروں نے کہا کہ تقریباً 25 کیلو گرام پتے والی ترکاریاں بشمول پالک، پودینہ کا پتہ، میتھی اور کوتھمیر، کچھوؤں، خرگوشوں، ہرن اور آسٹرچ کو کھلائی جاتی ہیں۔ زو کے کیوریٹر این کشتیجا نے کہا کہ زو کیلئے درکار گھاس کا دو تہائی حصہ فوڈ پارک میں اگائی جانے والی گھاس سے پورا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم یہاں تقریباً 100 کیلو گرام گنا بھی اگا رہے ہیں جس سے باہر کی نان ۔ آرگانک غذاؤں پر انحصار کم ہوا ہے۔ اوسطاً فوڈ پارک میں تقریباً 1200 کیلو گرام تا 1500 کیلو گرام گھاس اگائی جارہی ہے جسے ہاتھیوں، گینڈوں، دریائی گھوڑوں کو کھلایا جارہا ہے۔ کیلے بھی بندروں اور دوسرے جانوروں کو کھلائے جاتے ہیں۔ پہلے زو کے جانوروں کو چارہ کی فراہمی کیلئے سالانہ ٹنڈرس طلب کئے جاتے تھے تاہم یہ دیکھا گیا کہ انہیں حاصل ہونے والا زیادہ تر میٹریئل ناقص ہوتا تھا یا اسے کیمیکل فرٹیلائزرس کا استعمال کرتے ہوئے اگایا جاتا تھا۔ کشیتیجا نے کہا کہ آرگانک چارہ اگانے کے ان کے آئیڈیا کے اچھے نتاجئے برآمد ہوئے ہیں۔ اس نظریہ کی کامیابی سے حوصلہ پاکر زور میں زیادہ پودوں کی کاشتکاری کا منصوبہ بنایا جارہا ہے جیسے گاجر، سیم اور لکڑی وغیرہ۔ اس کی کاشت توقع ہیکہ عنقریب کی جائے گی۔ زو کی کیوریٹر نے کہا کہ آئندہ تین ماہ میں خاطرخواہ موز ہوں گے جو جانوروں کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے کافی ہوں گے اور ہم اس کیلئے باہر کوئی آرڈر نہیں دیں گے۔ 300 سے زائد پپئی کے درخت بھی تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں اور یہ بندروں اور اس طرح کے جانوروں کیلئے کارآمد ہوں گے۔