زچگیوں کیلئے مہورت کے تعین کو بند کرنے پروہتوں سے ضلع کلکٹر کی اپیل

   

پداپلی۔ ضلع میں زچگیوں کے لئے مہورت کے تعین کو بند کرنے کی ضلع کلکٹر پداپلی ڈاکٹر سنگیتا ستیہ نارائنا نے پروہتوں سے درخواست کی۔ عام زچگیوں کی تعداد میں اضافہ کے لئے کئے جانے والے اقدامات پر ضلع کلکٹر نے گائنا کالوجسٹ اور ضلع کے پروہتوں کے ہمراہ کلکٹریٹ کانفرنس ہال میں جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست میں عوام کو بہتر طبّی خدمات فراہم کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے موثر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ضلع کلکٹر نے کہا کہ یہ بات بہت افسوس ناک ہے کہ تلنگانہ ریاست میں کثیر تعداد میں سیزیرین آپریشنس ہورہے ہیں۔ متحدہ کریمنگر ضلع میں دنیا میں سب سے زیادہ %90سے زیادہ سیزیرین زچگیاں عمل میں لائی جارہی ہیں۔ آپریشنس کی وجہ سے نومولود بچوں کی صحت پر مضر اثرات ہوتے ہیں۔ ضلع پداپلی میں اپریل 2021 سے مارچ 2022 تک جملہ 2620 زچگیاں عمل میں لائی گئیں جن میں %91.6 یعنی 2400 آپریشن سیزیرین ، 220 عام زچگیاں عمل میں لائی گئیں ، جو کہ پریشان کن عمل ہے۔ سیزیرین آپریشنس کے ذریعہ کی گئی زچگیوں میں %50 سے زیادہ کمی کیلئے حکومت کوشاں ہے۔اس ضمن میں پروہتوں کو اپنا تعاون فراہم کرنے کی ضلع کلکٹر نے اپیل کی۔ ضلع کلکٹر نے مزید کہا کہ یہ محسوس کیا گیا ہے کہ ضلع میں سیزیرین آپریشنس میں اضافہ کی ایک وجہ مہورت کا تعین کرنا بھی ہے۔ مہورت کے ذریعہ بچہ کی ولادت قدرت کے فیصلہ کے خلاف ہے ، اور اس سے متعلق عوام میں وسیع پیمانے پر شعور اجاگر کیا جائے۔ زچگی کے پہلے گھنٹے میں بچّے کو ماں کا دودھ ملتا ہے، جو کہ بچے کی بہتر نشو نما کو فروغ دیتا ہے۔ ضلع کے ڈاکٹروں، پروہتوں، اور مختلف تنظیموں کے سربراہوں کو حاملہ عورتوں کو حمل کے پہلے ماہ سے ہی عام زچگیوں کے فوائد سے متعلق مکمل آگاہی فراہم کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضلع کلکٹر نے ہدایت دی۔اس اجلاس میں ضلعی عہدیدار برئے محکمہ طب و صحت ڈاکٹر پرمود کمار، ڈی۔سی۔ایچ۔ایس۔ ڈاکٹر واسودیوا ریڈی، گائنا کالوجسٹس ، ضلع کے پروہت، متعلقہ عہدیداران و دیگر نے شرکت کی۔