زچگی خانہ پیٹلہ برج میں عملہ کی کمی سے مریضوں کو مشکلات

   

حیدرآباد۔3جون(سیاست نیوز) پرانے شہر میں واقع پیٹلہ برج زچگی خانہ میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرس کو کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد دواخانہ میں خدمات انجام دینے والے طبی عملہ کی قلت ہوگئی ہے اور مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ دواخانہ کے ذرائع نے بتایا کہ شہر کے مرکزی مقام پر واقع اس دواخانہ سے یومیہ روزانہ سینکڑوں خواتین رجوع ہوتی ہیں اور ان خواتین کا معائنہ کرنے کے علاوہ ان کی زچگی کے انتظامات اسی دواخانہ میں کئے جاتے ہیں لیکن گذشتہ تین یوم کے دوران طبی عملہ کو کورونا وائرس اور سب سے زیادہ پیٹلہ برج زچگی خانہ میں خدمات انجام دینے والوں کی نشاندہی کے بعد صورتحال انتہائی ابتر ہوچکی ہے اور کہا جار ہاہے کہ آج مریضو ں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور جو مریض دواخانہ میں شریک ہیں انہیں بھی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ طبی عملہ کی قلت سے نمٹنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کارگر ثابت نہیں ہورہے ہیں اور پی جی ڈاکٹرس کے علاوہ جونئیر ڈاکٹرس بھی اس دواخانہ میں خدمات انجام دینے سے خوفزدہ ہیں۔ عثمانیہ میڈیکل کالج کے ڈاکٹرس کو کورونا وائرس اور ان میں بڑی تعداد اس دواخانہ سے تعلق رکھنے والے عملہ کی ہونے کے سبب طبی عملہ میں بھی خوف کا ماحول پیدا ہوچکا ہے اور زچگی خانہ میں خدمات انجام دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کرنے لگے ہیں ۔ شہر حیدرآباد میں سرکاری زچگی خانو ںمیں سلطان بازار میٹرنٹی ہاسپٹل کے ساتھ اگر کوئی بڑا دواخانہ موجود ہے تو وہ وکٹورویہ زچگی خانہ ہے جو کہ اب پیٹلہ برج میں تعمیر کی گئی نئی عمارت میں خدمات انجام دے رہا ہے ۔