زکوٰۃ ، عطیات و صدقات کا ناجائز فائدہ اُٹھانے والی تنظیموں اور اداروں سے چوکنا رہنے کی ضرورت

   

ماہ رمضان المبارک کے دوران سوشیل میڈیا کا بھی سہارا، چندہ چور مافیا پر پولیس کی نظر
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔15فروری۔ماہ رمضان المبارک کے دوران امت مسلمہ کے نرم دلوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے زکواۃ‘ عطیات ‘ صدقات اور تحائف کو لوٹنے والی تنظیموں اور اداروں سے چوکنا رہتے ہوئے اپنی زکواۃ اپنے خاندان میں تقسیم کے نظام کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اپنے اطراف واکناف میں موجود مستحق کی نشاندہی کرتے ہوئے ادا کرنے کو ترجیح دینے کے اقدامات ناگزیر ہوچکے ہیں کیونکہ اب تک عاملین زکواۃ کا لبادہ اوڑھے فرضی افراد گھوم کر زکواۃ حاصل کیا کرتے تھے لیکن اب ٹیکنالوجی کے دور میں سوشل میڈیا کے ذریعہ زکواۃ کی وصولی کا مافیاسرگرم ہے اور آن لائن چندہ کا دھندہ چلاتے ہوئے لوگوں کو گمراہ کیا جانے لگا ہے۔ تلنگانہ کے اضلاع بالخصوص شہر حیدرآباد وسکندرآباداور سرحدی اضلاع میں ماہ رمضان المبارک کے دوران گھوم کر چندہ وصول کرنے والے بیرون ریاست سے تعلق رکھنے والے سفراء پر محکمہ پولیس کی جانب سے خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ فرضی مدارس کے ذمہ داروں اور چندہ خوروں پر قابو پایا جاسکے۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ تلنگانہ پولیس کی جانب سے بیرونی سفراء پر کڑی نظر رکھتے ہوئے فرضی عاملین کے متعلق عوام میں شعور بیداری کے علاوہ بازاروں میں چوری میں ملوث افراد کی تصاویر پر مشتمل بیانر نصب کرتے ہوئے عوام کو چوکس رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے اسی طرح اب آن لائن چندہ چوری اور فرضی تنظیموں کے ذریعہ چندہ وصولی کرنے والوں پر بھی گہری نظر رکھتے ہوئے ان کے خلاف کاروائی ناگزیر ہوچکی ہے کیونکہ ملت اسلامیہ کو جس انداز میں دھوکہ دیا جا رہاہے اسی تفصیلات جلد پیش کی جائیں گی ۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران بعض افراد کی جانب سے معصوم بچوں کو ساتھ رکھتے ہوئے ان کے ذریعہ چندہ وصول کروانے کی شکایات موصول ہوئی تھیں جس کے سبب پولیس نے حرکت میں آتے ہوئے ان کے خلاف کاروائی کو یقینی بنایا تھا۔بتایاجاتا ہے کہ شمالی ہند کی ریاستوں سے تعلق رکھنے والی ٹولیوں کی ان سرگرمیوں کو کچلنے کے لئے جاری اقدامات کے طور پر محکمہ پولیس کے خفیہ ایجنسیوں نے ان ٹولیوں پر کڑی نظر رکھتے ہوئے ان کے متعلق تفصیلات حاصل کرنی شروع کردی تھی۔بتایاجاتاہے کہ جاریہ سال ماہ رمضان المبارک کے دوران آن لائن چندہ دہندوں کو راغب کرنے والوں پر خصوصی نظر رکھنے کے اقدامات کئے جار ہے ہیں تاکہ غیر قانونی طور پر چلائے جانے والے ’’چندہ کے دھندے ‘‘ پر پوری طرح سے قابو پایا جاسکے۔محکمہ پولیس کی جانب سے اس بات کا جائزہ لیا جا رہاہے کہ جو بیرون ریاست دینی مدارس کے سفراء ماہ رمضان المبارک کے دوران شہر کا رخ کر رہے ہیں آیا وہ حقیقی مدارس سے تعلق رکھتے ہیں یا نہیں ؟ ۔دینی مدارس کے ذمہ داروں بالخصوص سرکردہ اداروں کے ناموں کے ساتھ گشت کرنے والے عاملین زکواۃ کو کسی بھی طرح کے مسائل کا سامنا نہیں ہے لیکن چھوٹے مواضعات سے تعلق رکھنے والے مداریس دینیہ اور مساجد کے ذمہ داروں کو پولیس کی ان کاروائیوں کے نتیجہ میں مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اسی لئے سرکردہ مسلم تنظْموں اور دینی مدارس کے ذمہ داروں کو چاہئے کہ وہ ان چھوٹے مواضعات میںخدمات انجام دینے والے دینی مدارس کے عاملین زکواۃ کو توثیقی سند جاری کریں تاکہ وہ بوقت ضرورت عہدیداروں کو سند دکھاتے ہوئے اس بات کی توثیق کرواسکیں کہ وہ حقیقی مدارس کے عاملین زکواۃ ہیں۔ذرائع کے مطابق مساجد کے باہر یا مساجد کے صحن میں معصوم بچو ںسے چادر پکڑواکر ٹھہرانے والوں کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی کیونکہ معصوم بچوں سے اس طرح کی خدمات حاصل درست نہیں اور اس غیر قانونی عمل کے ذریعہ بچوں کو چندہ وصولی کے اس عمل میں اس طرح شامل کیا جانا انہیں بھیک مانگنے پر اکسانے کے مترادف ہے‘ اسی لئے ایسا کرنے والوں کے خلاف منظم انداز میں بھیک مانگنے کو فروغ دینے کے الزامات کے تحت کاروائی کی جاسکتی ہے۔ ۔دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے کئی علاقوں میں ماہ رمضان المبارک کے دوران ملک کی مختلف ریاستوں کے علاوہ ملک کے کئی شہروں سے دینی مدارس کے سفراء و عاملین زکواۃ گھوم کر اپنے مدارس و مساجد کے استحکام کیلئے زکوۃ ‘ چندہ و عطیات وصول کرتے ہیں لیکن ان میں بعض دھوکہ بازوں کی موجودگی نے عوام کو ان کے متعلق متنفر کردیا جس کے سبب ان عاملین و سفراء کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس کے باوجو دھوکہ بازوں کی کمی نہیں ہے جو معصوم بچوں کا سہارا لیکر مخیر حضرات کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوششکرتے ہوئے انہیں اپنا شکار بنا رہے ہیں۔ ماہ رمضان المبارک کے دوران مسلمانوں کی فراخدلی سے فائدہ اٹھانے کے لئے کوئی بھی سڑک پر یا آن لائن گداگری کرسکتا ہے لیکن زکواۃ اور صدقات ادا کرنے والوں کو بھی یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا وہ گداگر جو پیشہ ور ہیں ان کی زکواۃ یا صدقات کے مستحق ہیں !زکواۃ ادا کرنے والو ں کو اپنے رشتہ داروں اور قریبی افراد میں مستحقین کی تلاش کرتے ہوئے ان کی مدد کو ترجیح دینی چاہئے ۔3