زیادہ قرض حاصل کرنے والی ملک کی ریاستوں میں تلنگانہ کا پانچواں مقام

   

Ferty9 Clinic

جاریہ سال کے اواخر تک قرض بڑھ کر 2.30 لاکھ کروڑ ہوگا ، ادائیگی کے لیے سالانہ 36 ہزار کروڑ مختص کرنا ہوگا
حیدرآباد :۔ گولڈن تلنگانہ کے نام پر ریاست کو مقروض ریاستوں میں پانچواں مقام حاصل ہوا ہے ۔ صرف قرض کی ادائیگی کے لیے سالانہ 36 ہزار کروڑ روپئے مختص کرنے کی نوبت آگئی ہے ۔ مختلف کارپوریشن کے ذریعہ حاصل کیا جانے والا قرض جاریہ سال کے اواخر تک 1.30 ہزار کروڑ تک پہونچ جائے گا ۔ جاریہ سال تک ریاست کا مجموعی قرض بڑھ کر 2.30 لاکھ کروڑ ہوجائے گا ۔ چیف منسٹر کے سی آر بار بار تلنگانہ ایک دولت مند ریاست ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ لیکن کیر ریٹنگ ادارے کی جاری کردہ رپورٹ سے ریاست کے معاشی صورتحال کی قلعی کھل گئی ہے ۔ جاریہ مالیاتی سال یعنی سال 2020-21 میں اپریل تا جولائی تک ریاستوں کی جانب سے حاصل کردہ قرض پر ادارہ کیرریٹنگ نے ایک رپورٹ تیار کی ہے ۔ جس میں زیادہ قرض حاصل کرنے والی ملک کی 10 ریاستوں کو شمار کیا گیا ہے ۔ اس رپورٹ کے مطابق رواں سال اپریل تا جولائی تک ریاست تلنگانہ نے 14.461 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا ہے ۔ اس فہرست میں 33 ہزار کروڑ روپئے قرض حاصل کرتے ہوئے ریاست تاملناڈو سرفہرست ہے ۔ دوسرے مقام پر مہاراشٹرا ہے جس نے 28,500 کروڑ کا قرض حاصل کیا ہے ۔ تیسرے مقام پر راجستھان ہے جس نے 18,500 کروڑ اور چوتھے مقام پر آندھرا پردیش ہے ۔ جس نے 18 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا ہے ۔ تلنگانہ کے بعد کیرالا ، مغربی بنگال ، گجرات ، ہریانہ اور کرناٹک ہے ۔ جاریہ نئے مالیاتی سال کے آغاز سے ہی ریاست تلنگانہ نے ہر ماہ چار ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا ہے ۔ اس طرح ابھی تک تلنگانہ نے 14.461 کروڑ روپئے کا قرض بانڈس کا ہراج کرتے ہوئے حاصل کیا ہے ۔ تلنگانہ حکومت نے 1.82 لاکھ کروڑ کا مجموعی بجٹ پیش کیا ہے اور ہر ماہ 16 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی کا تخمینہ کیا ہے ۔ تاہم کورونا اور لاک ڈاؤن کے باعث اپریل اور مئی میں آمدنی پوری طرح گھٹ گئی ۔ اس کے ساتھ مرکز سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی روک گئی ۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد کسی قدر آمدنی میں اضافہ ہوا ہے ۔ محکمہ اکسائز سے ماہانہ 2000 کروڑ محکمہ رجسٹریشن سے ماہانہ 250 تا 300 کروڑ آمدنی کی امید کی جارہی ہے ۔ دوسرے شعبوں سے بھی مزید آمدنی ہونے اور مرکز سے حاصل ہونے والی آمدنی بڑھنے کی توقع کی جارہی ہے ۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت نے آتمانربھر پیاکیج کے تحت ایف آر بی ایم کی حد 3 تا 5 فیصد بڑھانے کی گنجائش فراہم کی ہے ۔ ریاستی حکومت نے حال ہی میں ایک آرڈیننس جاری کرتے ہوئے 50 ہزار کرور روپئے قرض حاصل کرنے کی گنجائش فراہم کرلی ہے ۔ ریاست کی آمدنی پر مختلف کارپوریشنس کے ذریعہ 90 فیصد قرض حاصل کرنے کی سہولت ہے جس کی حد کو بڑھا کر 200 فیصد کردیا گیا ہے ۔ ریاست کی گیارنٹی سے مختلف کارپوریشنس کے ذریعہ حاصل کئے جانے والے قرض میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے ۔ بالخصوص آر ٹی سی ، مشین بھاگیرتا ، مختلف آبہاشی پراجکٹس کی تعمیرات کے لیے قائم کردہ کارپوریشنس کے علاوہ برقی بورڈ کے اداروں سے بھی بنکوں سے بڑے پیمانے پر قرض حاصل کیا جارہا ہے ۔ اس طرح حکومت کی گیارنٹی پر جہاں سال 2014-15 میں 18,250 کروڑ کا قرض حاصل کیا گیا ۔ وہیں گذشتہ سال یہ قرض 89 ہزار کروڑ سے تجاوز کرگیا ۔ جاریہ سال کے اواخر تک یہ قرض 1.30 لاکھ کروڑ تک پہونچ جانے کا امکان ہے ۔ ریاست کا قرض ہر سال بڑھ رہا ہے ۔ سال 2015-16 میں تقریباً 97,992 کروڑ کا قرض تھا ۔ گذشتہ مالیاتی سال کے اختتام تک مزید بڑھ کر 1.99 لاکھ کروڑ تک پہونچ گیا ۔ جاریہ سال کے اواخر تک 2.30 لاکھ کروڑ تک پہونچ جانے کا امکان ہے ۔ ریاست پر جس طرح قرض کا بوجھ بڑھ رہا ہے ۔ اس طرح اس کی ادائیگی کی حد میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔ قرض کی ادائیگی کے لیے حکومت کو ہرماہ تین ہزار کروڑ یعنی سالانہ 36 ہزار کروڑ روپئے صرف قرض کی ادائیگی کیلئے مختص کرنا ہوگا ۔۔