10 دن تک قرنطینہ میں رکھنے کے بعد 6 اکٹوبر سے عوام کے مشاہدہ کے لیے کھولا جائے گا
حیدرآباد ۔ 2 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد کے نہرو زوالوجیکل پارک کا زیبرا کو زو میں واپس لانے کا دیرینہ خواب 37 سال بعد پورا ہوا ہے ۔ تین زیبرا جن میں دو نر اور ایک مادہ جن کی عمریں 1.5 سال سے تین سال کے درمیان ہیں ۔ چہارشنبہ کو انہیں زو پارک میں لایا گیا ۔ انہیں فی الحال 10 دن کے لازمی قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور 6 اکٹوبر کو عوام کے دیکھنے کے لیے کھول دیا جائے گا ۔ زیبرا آخری مرتبہ 1987 میں تھے ۔ تب سے ہی نہرو زوالوجیکل پارک حکام انہیں واپس لانے کے لیے کوشش کررہے تھے ۔ کیوریٹر جے وسنت نے بتایا کہ زیبرا کو رادھا کرشنا ٹرسٹ سے لائے گئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ نئے جانوروں کے لیے خصوصی انکلوژرز کھلے اور بند دونوں طرح سے تیار کئے گئے ہیں ۔ ان کے ساتھ جمشید پور جیسے دوسرے چڑیا گھر سے گبن ، مینڈریلز اور والابیز کا ایک جوڑا اگلے ہفتے تک شامل ہوجائے گا ۔ والابیز کے لیے پہلے سے ہی انکلوژرز موجود ہیں اور گبن اور مینڈرلز کے لیے نئے انکلوژرز بنائے جارہے ہیں ۔ قرنطینہ کے لیے عمل کی وضاحت کرتے ہوئے وسنت نے بتایا کہ جانوروں کی نگرانی کی جاتی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ وہ اپنے پہلے کے چڑیا گھروں سے کوئی وائرس یا بیکٹریا کے ساتھ آئے ہیں یا نہیں ۔ ہم وہاں ان کے انکلوژرز اور خوراک کے نمونوں کا بھی مطالعہ کرتے ہیں اور انہیں یہاں نقل کرتے ہیں ۔ زو پارک کے حکام نے کہا کہ ان جانوروں کو شامل کرنے کا مقصد انواع کے مجموعہ کو بڑھانا ، تحفظ اور افزائش میں مدد کرنا اور سیاحوں کے لیے تعلیم اور کشش کو بہتر بنانا ہے ۔۔ ش