متوفی واجد 8 ماہ سے چنچلگوڑہ جیل میں تھے ۔ عثمانیہ دواخانہ میں دوران علاج چل بسے
حیدرآباد 26 اگسٹ ( سیاست نیوز) شہر میں ایک زیردریافت نوجوان مسلم قیدی کی موت کے بعد سنسنی پھیل گئی ۔ چنچل گوڑہ جیل حکام پر مسلم قیدی سے مارپیٹ اور اذیت رسانی کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں ۔ 22 سالہ واجد جو گزشتہ 8 ماہ سے چنچل گوڑہ جیل میں قید تھا گزشتہ روز عثمانیہ جنرل ہاسپٹل میں علاج کے دوران فوت ہوگیا ۔ جیل حکام پر متوفی کے افراد خاندان نے اذیت رسانی کا الزام عائد کیا اور واجد کی والدہ نے معاملہ کی تحقیقات اور بیٹے کی موت کی وجوہات کو منظرعام پر لانے کا مطالبہ کیا ۔ حکومت اور پولیس سے انصاف کی اُمید میں واجد کی والدہ نے کئی سوالات اُٹھائے ہیں شاید اس کا جواب اُنھیں حاصل ہوگا ۔ واجد کی موت کی اطلاع پر حبیب نگر اور نامپلی میں سنسنی پھیل گئی ۔ پولیس نے احتیاطی اقدامات اختیار کئے ۔ آج واجد کی نعش کو علاقہ بازار گھاٹ منتقل کیا گیا جہاں وہ کرایہ کے مکان میں رہتا تھا ۔ اس موقع پر پولیس کے وسیع انتظامات تھے اور امکانی حالات کو دیکھتے ہوئے پولیس نے عملاً بازارگھاٹ اور حبیب نگر کا محاصرہ کرلیا تھا ۔ سادہ لباس میں بھاری پولیس جمعیت کی تعیناتی تھی اور سخت انتظامات میں واجد کی تدفین عمل میں آئی ۔ واجد کے افراد خاندان نے آصف نگر اے سی پی سے ملاقات کی اور بیٹے کی موت پر تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ذرائع کے مطابق دبیرپورہ پولیس نے تحصیلدار کی نگرانی میں واجد کا پوسٹ مارٹم کروایا اور ویڈیوگرافی کی گئی اور واجد کی موت اور حالات سے قومی انسانی حقوق کمیشن کو واقف کروایا گیا۔ اس کے علاوہ تفصیلی رپورٹ بھی قومی انسانی حقوق کمیشن کو روانہ کی جائیگی ۔ دبیرپورہ پولیس کے مطابق کل واجد کی صحت بگڑنے پر اُسے عثمانیہ جنرل ہاسٹل منتقل کروایا گیا تھا جہاں وہ علاج کے دوران فوت ہوگیا ۔ واجد کی والدہ اور بھائی نے بتایا کہ اُنھیں اطلاع دی گئی تھی کہ واجد کو ہاسپٹل منتقل کیا گیا لیکن جب یہ لوگ ہاسپٹل پہونچے واجد کا انتقال ہوگیا تھا ۔ اس کے ہاتھ میں ہتھکڑی اور جسم پر زخموں کے نشان تھے ۔ واجد کی حالت کو مار مار کر کافی بگاڑ دیا گیا تھا ۔ واجد کی والدہ نے بتایا کہ اس کی ضمانت کی تیاری جاری تھی اور چند روز میں وہ ضمانت پر رہا ہونے والا تھا ۔ انہوںنے بتایاکہ واجد پر نشہ کے الزامات ہیں لیکن جیل میں وہ کس طرح نشہ کرسکتا ہے ۔ جیل حکام کے جوابات اور الزامات پر پولیس کو غور کرنا چاہئے ۔ واجد کو چوری اور آرمس ایکٹ میں حبیب نگر پولیس نے گزشتہ سال جیل منتقل کیا تھا اور 8ماہ سے وہ جیل میں قید تھا ۔ دبیرپورہ پولیس نے اس واقعہ پر کرائم نمبر 154/2023 کے تحت دفعہ 176 کا مقدمہ درج کرلیا اور مصروف تحقیقات ہے ۔
