حیدرآباد۔15ستمبر(سیاست نیوز) زیر زمین پانی کا استعمال بھی اب شہریوںکے لئے وبال بن جائے گا کیونکہ ریاستی حکومت کی جانب سے جو منصوبہ تیار کیا گیا ہے اس کے مطابق مقررہ حد سے زیادہ زیر زمین پانی کے استعمال کی صورت میں شہریوں کو ادائیگی کرنی ہوگی اور زیر زمین موجود پانی کے استعمال پر بھی ریاستی حکومت کی جانب سے بل وصول کیا جائے گا۔ ریاستی حکومت کے زیر زمین آب کے ماہرین کی جانب سے حکومت کو دی گئی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ ریاستی حکومت کی ہدایت پر تیار کی گئی اس رپورٹ میں زیر زمین پانی کے استعمال پر بل کی وصولی کے سلسلہ میں اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے بوتل بند پانی ‘ ٹینکرس کے ذریعہ پانی کی فروخت کرنے والوں کے علاوہ ہمہ منزلہ رہائشی کامپلکس ‘ صنعتی اداروں اور محلہ جات پر خصوصی نظر رکھی جائے گی تاکہ ان کے پاس موجود زیر زمین پانی کے استعمال کا جائزہ لیا جائے ۔ ذرائع کے مطابق سنگاریڈی میں حکومت کی جانب سے تجرباتی اساس پر زیر زمین پانی کے استعمال کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے اور اس تجربہ کے کامیاب ہونے کی صورت میں ریاست کے تمام اضلاع میں زیر زمین پانی کی پیمائش اور اس کے استعمال کی حد مقرر کرتے ہوئے مقررہ حد سے زیادہ استعمال کرنے والوں سے بل وصول کیا جائے گا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اگر کسی ہاؤزنگ سوسائیٹی کی جانب سے 25کیوبک میٹر سے زیادہ پانی ماہانہ استعمال کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ان سے اضافی پانی کے استعمال پر رقم وصول کی جائے گی اورایک کیوبک میٹر سے 50 کیوبک میٹر تک 1روپیہ فی کیوبک میٹر اور 50 کیوبک میٹر سے زیادہ استعمال کی صورت میں 2 روپیہ فی کیوبک میٹر قیمت وصول کی جائے گی۔ صنعتی اداروں کے لئے 20 روپئے لیٹر پانی کی قیمت مقرر کی گئی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ اگر مقررہ حد سے زیادہ زیر زمین پانی کی نکاسی اور استعمال کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں 20 روپئے فی لیٹر قیمت وصول کی جائے گی۔اسی طرح حکومت کی جانب سے بوتل بند پانی کی فروخت کرنے والوں اور ٹینکرس کے ذریعہ پانی فروخت کرنے والوں کے لئے بھی قیمتوں کے تعین کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے ان کے زیر زمین پانی کے استعمال کا جائزہ لینے کے بعد اس سلسلہ میں فیصلہ کیا جائے گا اوران کے لئے قیمتوں کا تعین عمل میں لایا جائے گا۔عہدیداروں نے بتایا کہ زیر زمین پانی کے استعمال کے لئے قیمتوں کی وصولی کیلئے زیر زمین پانی کے نگران کمیشن کے اصولوں اور قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہوگی اور حکومت تلنگانہ کی جانب سے ان ترامیم کے سلسلہ میں مذاکرات کا آغاز کیا جاچکا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں زیر زمین پانی کی سطح پر نظر رکھنے کے لئے صنعتی اداروں میں فلو میٹر کی تنصیب عمل میں لائی جائے گی اس کے علاوہ رہائشی اپارٹمنٹس ‘ ہاؤزنگ سوسائیٹیز‘ محلہ جات کے علاوہ بوتل بند پانی اور ٹینکرس سربراہ کرنے والوں کے مقامات پر ان فلو میٹرس کی تنصیب کے اقدامات کئے جائیں گے اور مقررہ حد سے زیادہ پانی استعمال کرنے والوں کو بل جاری کئے جائیں گے۔M