تلنگانہ ریاست میں جرائم میں کمی، انڈین سائبر کرائم کو آرڈنیشن سنٹر کی رپورٹ
حیدرآباد ۔ 9 اگست (سیاست نیوز) سائبردھوکہ دہی معاملات میں ریاستی پولیس کے اقدامات کے ثمرآور نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے تشکیل دیئے گئے نئے شعبہ اور سخت گیر پالیسیوں کے سبب قومی سطح پر ریاست تلنگانہ کا بہتر مظاہرہ سامنے آیا ہے۔ انڈین سائبرکرائم کوآرڈینیشن سنٹر (آئی۔ فور۔ سی) نے جاریہ سال کی ششماہی رپورٹ کو جاری کیا۔ اس رپورٹ کے مطابق جاریہ سال دیگر ریاستوں کی بہ نسبت ریاست تلنگانہ میں سائبر جرائم میں کمی واقع ہوئی ہے حالانکہ ریاست میں ہر چھوٹی شکایت کو بھی درج کرنے کا نظام ہے اور ریاست کے بڑے شہروں کے علاوہ ضلع ہیڈکوارٹرس میں سائبر کرائم پولیس اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سنٹر کی رپورٹ کے مطابق مہاراشٹرا سرفہرست اور اس کے بعد آترپردیش اور کرناٹک دوسرے اور تیسرے نمبر پر پائے جاتے ہیں۔ جنوری سے ڈسمبر تک گزشتہ سال کے اعداد و شمار کے مطابق مہاراشٹرا ریاست 3,03,173 مقدمات، اترپردیش میں 3,01,057 اور کرناٹک میں 1,69,384، اتراکھنڈ میں 1,67,892، ٹاملناڈو 1,33,427 اور تلنگانہ میں 1,23,447 سائبردھوکہ دہی کے مقدمات کو درج کیا گیا۔ جاریہ سال 6 ماہ کے عرصہ میں 12,47,393 مقدمات درج کئے گئے۔ ایک اوسط کے مطابق یعنی ملک میں فی گھنٹہ 288 دھوکہ دہی کے معاملات کو درج کیا جارہا ہے۔ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے سائبر سیکوریٹی کے نام سے نیا شعبہ تشکیل دیا گیا ہے۔ سائبر جرائم کی کمی کی اصل وجہ عوامی شعور بیداری اور چوکسی ہے۔ عوام میں سائبر کرائم کے متعلق شعور بیدار کرتے ہوئے پولیس سائبر جرائم کے خلاف سخت اقدامات اور دھوکہ بازوں کے خلاف کارروائی کے سبب بہتر نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ع