حیدرآباد ۔ 16 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : سائبر آباد ٹریفک کاریڈر میں ٹریفک ہجوم کے مسئلہ کو حل کرنے کے مقصد سے ریونت ریڈی حکومت نے آئی آئی آئی ٹی جنکشن کے قریب ایک ہی مقام پر تین فلائی اوورس تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ یہاں ٹریفک کا بہت مسئلہ ہورہا ہے کیوں کہ اس مقام پر گاڑیوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ ہر روز شہر کے مختلف مقامات سے لاکھوں لوگ روزگار کے مواقع کے لیے آئی ٹی کاریڈر سے سفر کرتے ہیں ۔ گچی باولی ۔ آئی آئی آئی ٹی جنکشن پر بہت زیادہ ٹریفک ہجوم ہوتا ہے اور موٹر گاڑی والوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے سابق بلدی ادارے ، جی ایچ ایم سی نے آئی آئی آئی ٹی جنکشن کے قریب بیک وقت تین فلائی اوورس کی تعمیر کے سلسلہ میں پہل کی ہے ۔ ان فلائی اوورس کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے جس سے چار مختلف سمتوں سے آنے والی ٹریفک کا بہاؤ خلل کے بغیر اور آسانی سے ہوگا ۔ یہ اقدام حکومت تلنگانہ کے تلنگانہ رائزنگ ویژن 2047 کی مطابقت میں ہے جس میں حیدرآباد کو اہم توجہ دی جارہی ہے ۔ سائبر آباد ٹریفک پولیس ، جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں کے ساتھ سلسلہ وار کوآرڈینیشن میٹنگس منعقد کرنے کے بعد ٹی جی ائی آئی سی کے عہدیداروں نے اسی جنکشن پر اسی وقت تین فلائی اوورس تعمیرکرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جنکشن پر ٹریفک سگنل نہیں ہوں گے ۔ اس علاقہ میں مستقبل میں ٹریفک مسائل کے تدارک کے نظریہ سے آئی آئی آئی ٹی جنکشن کی توسیع کے کنارے کام شروع کئے گئے ہیں اور فلائی اوورس کو ڈیزائن کیا گیا ہے ۔ اس کا مقصد تمام سمتوں میں ٹریفک سگنلس کی ضرورت کے بغیر گاڑیوں کی آمد و رفت کو آسان بنانا ہے ۔ ایک فلائی اوور کو فینانشیل ڈسٹرکٹ کی سمت گاڑیوں کے جانے کے لیے تعمیر کیا جارہا ہے ۔ دو مزید فلائی اوورس کو سیری لنگم پلی ، ڈی ایل ایف اور مہدی پٹنم سے اور ان کی جانب ٹریفک کے آسان بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے تعمیر کیا جارہا ہے ۔ ان کے تعمیراتی کام کا حال میں آغاز ہوا ہے اور فی الوقت پلر کے کام کئے جارہے ہیں ۔ آئی آئی آئی ٹی کی جانب حصول اراضی کا کام مکمل ہوگیا ہے اور سڑک کشادگی کے کام بھی پورے ہوگئے ہیں ۔ آئی آئی آئی ٹی جنکشن ، کونڈا پور ، سیری لنگم پلی اور گچی باولی علاقوں سے آوٹر رنگ روڈ پہنچنے کیلئے ایک اہم راہ بن گیا ہے ۔ اگرچیکہ گچی باولی پہلے ہی سے آوٹر رنگ روڈ سے مربوط ہے یہ ایک متبادل روٹ ہوگی ۔ ان فلائی اوورس کو کوکہ پیٹ نیوپولس علاقہ کو کنیکٹیویٹی فراہم کرنے کے لیے بھی ڈیزائن کیا گیا ہے ۔۔ A