حیدرآباد ۔14 فبروری (سیاست نیوز) سائبر کرائمز کی تفتیش میں پولیس نے ایک نیا ہتھیار حاصل کیا ہے۔ تلنگانہ سائبر سیکوریٹی بیورو، سائبرآباد پولیس نے ’’سینیٹنل‘‘ نامی ایک آلہ تیار کیا ہے۔ یہ آلہ ڈیجیٹل سپاہی کے طور پر پولیس کیلئے کام کرے گا۔ یہ آلہ تین ماڈیولز پر مشتمل ہے۔ سنیٹینل ٹول ڈیجیٹل طور پر مختلف محکموں سے معلومات جمع کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس ماڈیول کے ذریعہ سرویس فراہم کرنے والوں، ای کامرز پلیٹ فارمز، بینکوں، سوشل میڈیا کمپنیوں اور دیگر ڈیجیٹل میڈیا کو درخواستیں آسانی سے بھیجی جاسکتی ہیں۔ آئی پی لاگز، سبسکرائبر ڈیٹیل ریکارڈ، کے وائی سی کی معلومات، کال ریکارڈ، بینک اکاؤنٹ کھولنے کے فارم وغیرہ مقدمات کی تفتیش کیلئے کارآمد ہوں گے۔ اگر متاثرین رقم کھودیتے ہیں تو پولیس 1930 پر موصول ہونے والی فون کال کی بنیاد پر مقدمہ درج کرے گی۔ متاثرہ کے اکاؤنٹ سے جعلسازوں کے اکاؤنٹس میں منتقل کی گئی رقم واپس لئے بغیر منجمد کردی جائے گی اور رقم واپس کردی جائے گی۔ تاہم نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل کے اعدادوشمار کے مطابق سائبر جرائم کرنے والے گروہ بڑی چالاکی سے شکار نے لوٹی گئی رقم کو فوری طور پر 20 سے 25 بینک کھاتوں میں منتقل کررہے ہیں۔ اس ٹولی میں ریفنڈ ماڈیول کے ذریعہ تفتیشی افسران بیک وقت متعدد ریفنڈ درخواستیں تیار کرسکیں گے اور عدالتوں سے جلد رقم کی واپسی کے آرڈر حاصل کرسکیں گے۔ سائبردھوکہ باز لوٹی ہوئی رقم کو خچر کھاتوں میں منتقل کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر ایسے خچر کھاتوں کو کسی اور کے اکاؤنٹ میں منتقل کیا جاتا ہے جس کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر کوئی بھی ایسا صارف اپنی درخواست ڈیجیٹل طور پر بھیجتا ہے اگر تفتیش افسر اس کی جانچ پڑتال کرتا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ اس کا کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے تو درخواست کو فوری طور پر منجمد کردیا جائے گا۔ سائبر دھوکہ بازوں کی جانب سے کسی نہ کسی طریقے سے عوام کو دھوکہ دیتے ہوئے رقم حاصل کرنے والوں کیلئے یہ ٹول بیحد کارآمد ثابت ہوگی۔ عوام بھی سائبر جرائم سے محفوظ رہنے کیلئے پولیس کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے آن لائن دھوکہ بازوں کے جعل میں نہ پھنسے۔ش