سائنا نہوال اہم ٹورنمنٹس کے سلیکشن ٹرائلز سے دستبردار

   

نئی دہلی۔ سائنا نہوال کے اپنے کامن ویلتھ گیمز خطاب کا دفاع کرنے کے امکانات تاریک نظر آتے ہیں کیونکہ انہوں نے آئندہ کثیرکھیلوں کے مقابلوں کے سلیکشن ٹرائلز میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ برمنگھم میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز اور ہانگزو میں ہونے والے ایشین گیمز کے لیے سلیکشن ٹرائلز 15 سے 20 اپریل تک ہوں گے۔ 32 سالہ دو بارکامن ویلتھ گیمز کی چمپئن اور 2012 کے لندن اولمپکس کی برونز میڈل جیتنے والی نے بیڈمنٹن اسوسی ایشن آف انڈیا (بی اے آئی) کو ٹرائلز میں حصہ نہ لینے کے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔ بی اے آئی کے ایک ذریعہ نے میڈیا کو بتایا کہ سائنا نے بی اے آئی کو خط لکھا ہے اور اسے ٹرائلزمیں حصہ نہ لینے کے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔ کامن ویلتھ گیمز، ایشین گیمز اور اوبرکپ کے لیے ٹیم کے انتخاب کا یہ واحد ٹورنمنٹ ہے۔ ایشین گیمز اور تھامس اینڈ اوبرکپ کے دستے میں 20 ارکان ہوں گے، جن میں 10 مرد اور 10 خواتین ہوں گی۔بی اے آئی نے واضح کیا ہے کہ بی ایف ڈبلیو رینکنگ میں ٹاپ 15 کھلاڑیوں کو براہ راست داخلہ ملے گا جبکہ باقی کا انتخاب ٹرائلز کے ذریعے کیا جائے گا۔ 29 مارچ کو جاری ہونے والی عالمی رینکنگ میں 16 سے 50 ویں نمبر پر آنے والے کھلاڑی ٹرائلز میں حصہ لیں گے۔ بی اے آئی ٹرائلز کے دوران 2024 کے اولمپک گیمز کے لیے سینئر کورگروپ کے امکانات کو بھی حتمی شکل دے گا۔ سابق عالمی نمبر ایک سائنا پچھلے کچھ سالوں سے زخموں اور خراب فارم سے لڑ رہی ہیں۔ وہ عالمی درجہ بندی میں23 ویں نمبر پر پہنچ گئی ہیں۔ سائنا نے 2010 اور 2018 کے کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔ وہ ریو اولمپکس سے قبل کریئر کے لیے خطرناک گھٹنے کی تکیف کا شکار ہوئی۔ وہ گزشتہ سال اکتوبر میں ڈنمارک کے آرہس میں تھامس اور اوبرکپ کے فائنل کے دوران بھی کمر کی تکلیف کا شکار ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ انہیں گھٹنے کی تکلیف کی وجہ سے فرنچ اوپن کے پہلے راؤنڈ کے میچ سے دستبردار ہونا پڑا۔ چوٹ سے واپسی کرتے ہوئے وہ انڈیا اوپن کے دوسرے راؤنڈ میں مالویکا بنسود سے ہارگئیں۔ چند ہفتوں بعد انہوں نے تین ٹورنامنٹس، جرمن اوپن، آل انگلینڈ اور سوئس اوپن میں حصہ لیا لیکن دوسرے راؤنڈ میں آگے بڑھنے میں ناکام رہی۔