حیدرآباد23اکٹوبر(سیاست نیوز) قائد مقننہ اکبر اویسی اورجناب ممتاز احمد خان رکن اسمبلی کی ملاقات کی خبر نے دونوں شہروں کے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کردی ہے اور ممتاز احمد خان کو ان کے حامیوں کے علاوہ طویل مدت تک جماعت کے ساتھ رہنے کے باوجود کسی عہدہ سے محروم اور سابق و مرحوم ارکان اسمبلی کے افراد خاندان کی حمایت حاصل ہونے لگی ہے ۔ ذرائع کے مطابق سابق مجلسی ارکان اسمبلی کے فرزندان و افراد خاندان جو اپنی نئی نسل کیلئے کارپوریٹر اور اسمبلی کی نشست کے خواہشمند ہیں وہ بھی ممتاز احمد خان کی حمایت کر رہے ہیں ۔ گذشتہ یوم رکن اسمبلی چارمینارجناب ممتاز احمد خان اور رکن اسمبلی یاقوت پورہ جناب سید احمد پاشاہ قادری سے ان کے مکان پر قائد مقننہ کی ملاقات میں جو بات ہوئی اس میں جو شکایات کی گئیں ان کے متعلق اکبر اویسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا کیونکہ دونوں ارکان اسمبلی نے جماعت کے بعض افراد کے تیور سے اکبر اویسی کو واقف کرواتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کے پاس رکن اسمبلی کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ ان افراد کو اس قدر اختیارات دیئے گئے کہ وہ عوام میں منتخبہ نمائندوں کی تذلیل کرنے لگے ہیں جبکہ عہدیداروں کے پاس بھی ان کی رسائی اور نمائندگی کو اہمیت دی جا رہی ہے جو کہ ارکان اسمبلی کو حاصل نہیں ہورہی ہے۔ ممتاز احمد خان جو انتخابات میں حصہ لینے بضد ہیں نے اپنے موقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ وہ عوام کے درمیان خدمات انجام دینے صحتمند ہیں ۔ دیگر جماعتوں میں جس طرح ارکان اسمبلی و پارلیمان اپنے بچوں کیلئے ٹکٹ کا مطالبہ کرتے ہیں اسی طرح وہ بھی اپنی آئندہ نسل کیلئے ٹکٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مجلس کی اگر تاریخ کا مشاہدہ کیا جائے تو قیادت نے کسی رکن اسمبلی کے فرزند کو ٹکٹ نہیں دیا ہے اور نہ کسی فرد خاندان کو انتخابات میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا ہے ۔ مجلس کی تاریخ میں ایک خاندان سے دو ارکان اسمبلی کا اعزازاویسی خاندان کے علاوہ ڈاکٹر وزارت رسول خان کے خاندان کو حاصل رہا ۔ ڈاکٹر وزارت رسول خان و ان کے بھائی جناب وراثت رسول خان مجلس کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے لیکن ان کے فرزندان میں کسی کو مجلس نے امیدوار نہیں بنایا ۔ اسی طرح مرحوم اراکین اسمبلی جناب ابراہیم بن عبداللہ مسقطی ‘ جناب محمد امان اللہ خان‘ جناب سید باقر آغا‘ جناب سید سجاد ‘ جناب محمد افسر خان کے خاندان یا فرزندان میں کسی کو کارپوریٹر یا رکن اسمبلی نہیں بنایا گیا ۔ قیادت کے قریبی افراد کا کہنا ہے کہ مجلس خاندانی یا موروثی سیاست والی جماعت نہیں ہے اسی لئے کسی رکن اسمبلی کے فرزند کو ٹکٹ نہیں دیا گیا اور نہ ہی اس کی توقع ہے ۔ممتاز احمد خان اور قیادت میں جاری اس تنازعہ کو مجلسی قائدین داخلی معاملہ قرار دے کر کہہ رہے ہیں کہ اسدالدین اویسی کی نگرانی میں اس کو حل کرلیا جائے گا جبکہ ممتاز خان کے موقف سے آگاہ قائدین ان سے رابطہ کرکے مستقبل کی حکمت عملی کے متعلق آگہی حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔