سابق آئرش وزیر اعظم کی دھمکی پرایلون مسک کا کرارا جواب

   

اڈنبرا: اسکاٹ لینڈ کے سابق وزیر اعظم حمزہ یوسف اور ان کے وکیل عامر انور نے امریکی ارب پتی ایلون مسک کو خبردار کیا ہے کہ اْن کے خلاف ممکنہ طور پر قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے قبل مسک نے حمزہ پر تنقید کرتے ہوئے ان پر سفید فام لوگوں کے خلاف نسل پرستی کا الزام لگایا تھا۔دوسری جانب ایکس پلیٹ فارم کے مالک ایلون مسک نے اتوار کے روز اس تنبیہ کا جواب دیتے ہوئے ایک پوسٹ میں حمزہ یوسف کو سفید فام افراد کے خلاف انتہائی نسل پرست قرار دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں اس بدمعاش کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ میرے خلاف قانونی کارروائی کرے۔ ۔دونوں شخصیات کے درمیان تنازعہ جمعہ کی دوپہر شروع ہوا جب ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر حمزی یوسف کو انتہائی نسل پرست قرار دیا۔اس سے قبل حمزہ یوسف نے ایلون مسک کو دنیا میں سب سے زیادہ خطرناک شخص قرار دیا تھا۔ یوسف نے مسک پر انٹرنیٹ کے ذریعے گمراہ کن معلومات پھیلانے کا الزام لگایا۔ ایلون مسک نے مملکت متحدہ UK میں ہنگاموں پر لیبر پارٹی کے رد عمل پر پارٹی پر نکتہ چینی کی تھی۔ مسک نے سابق وزیر اعظم حمزہ یوسف کی تقریر کے بدنام زمانہ وڈیو کلپ پر تبصرہ بھی کیا۔ اس وڈیو میں حمزہ نے اسکاٹ لینڈ کے سرکاری سیکٹر پر تنقید کی تھی کہ اس میں تمام اعلی منصبوں پر سفید فام افراد براجمان ہیں۔ایلون مسک نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ یہ (حمزہ) انتہائی نسل پرست ہے، اسکاٹ لینڈ نے اسے سب کچھ دیا اور وہ سفید فام سے نفرت کرتا ہے۔
دنیا میں 200 سے زیادہ ممالک ہیں جن میں اکثریت کی قیادت ایک ہی نسل سے ہے، تو یہ صرف اسکاٹ لینڈ پر نکتہ چینی کیوں کر رہا ہے؟”۔برطانوی ذرائع ابلاغ نے جن میں “سنڈے میل” اخبار شامل ہے بتایا ہے کہ “حمزہ یوسف نے (ایلون مسک کے) اس تبصرے کے حوالے سے قانونی چارہ جوئی کو خارج امکان قرار نہیں دیا ہے اور سابق آئرش وزیر اعظم تمام راستوں پر غور کر رہے ہیں”۔