نیویارک : ابتدا میں خود کو بے قصور قرار دیتے رہنے کے بعد جمعرات کے روز روچا نے میامی کی ایک عدالت میں اپنے اوپر عائد ان الزامات کو تسلیم کرلیا کہ وہ کیوبا کے ایجنٹ کے طورپر کام کررہے تھے۔ بولیویا میں سابق امریکی سفیر مانوئل روچا نے چالیس سال سے زائد عرصہ تک کیوبا کے ایجنٹ کے طور پر جاسوسی کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔ اسے امریکہ اور کیوبا کے درمیان جاسوسی کے سب سے بڑے کیسز میں سے ایک قرار دیا جارہا ہے۔تہتر سالہ وکٹرمانوئل روچا پر الزام لگایا گیا تھا کہ سن 1981 سے امریکی محکمہ خارجہ کے لیے کام کرتے ہوئے وہ کمیونسٹ ملک کیوبا کی حکومت کو امریکی حکومت کی خفیہ معلومات پہنچاتے رہے۔ ابتدا میں خود کو بے قصور قرار دیتے رہنے کے بعد جمعرات کے روز روچا نے میامی کی ایک عدالت میں اپنے اوپر عائد ان الزامات کو تسلیم کرلیا کہ وہ چالیس سال سے زیادہ عرصہ سے کیوبا کے ایجنٹ کے طورپر کام کررہے تھے۔انہیں 12اپریل کو ہونے والی سماعت کے دوران سزا سنائی جائے گی۔