سابق رکن پارلیمنٹ کونڈہ ویشویشور ریڈی کانگریس سے مستعفی

   

3 ماہ تک آرام، نئی پارٹی کے قیام کا اشارہ، کانگریس کی موجودہ صورتحال سے مطمئن نہیں

حیدرآباد۔ تلنگانہ میں بقاء کی جدوجہد میں مصروف کانگریس پارٹی کو ایک اور دھکہ لگا جب سابق رکن پارلیمنٹ کونڈہ ویشویشور ریڈی نے پارٹی سے استعفی کا اعلان کردیا۔ مشہور سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والے کونڈہ ویشویشور ریڈی اپولو گروپ کے چیرمین سی پرتاپ ریڈی کے داماد ہیں وہ گذشتہ دو ماہ سے اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں ساتھیوں اور حامیوں سے مشاورت میں مصروف تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ویشویشور ریڈی نے کانگریس ہائی کمان سے کہا تھا کہ اگر ریونت ریڈی کو پردیش کانگریس کی صدارت دی جاتی ہے تو تلنگانہ میں کانگریس دوبارہ زندہ ہوگی اور وہ پارٹی میں برقرار رہیں گے۔ پی سی سی صدر کے انتخاب میں تاخیر اور کانگریس میں داخلی گروپ بندیوں سے عاجز آکر ویشویشور ریڈی نے پارٹی سے استعفی کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ انہوں نے کسی بھی پارٹی میں شمولیت کا اشارہ نہیں دیا ہے تاہم ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ 3 ماہ تک وہ صورتحال کا جائزہ لیں گے اور توقع ہے کہ علحدہ سیاسی پارٹی کے قیام کا اعلان کرسکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ کے نتیجہ کے بعد وہ سیاسی مستقبل کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے اپنے استعفی کے بارے میں صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی کو اطلاع دی کردی ہے۔ ڈسمبر 2018 میں اسمبلی انتخابات سے قبل ویشویشور ریڈی نے ٹی آر ایس سے استعفی دے کر کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ویشویشور ریڈی نے کہا کہ انہوں نے کسی پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ میں کانگریس کی سرگرمیوں سے دور رہوں گا لیکن سرگرم سیاست میں برقرار رہوں گا۔ تلنگانہ میں موجودہ حکومت سے مقابلہ کیلئے میں نے اپنے تمام امکانات کو کھلا رکھا ہے جس میں علحدہ پارٹی کا قیام بھی شامل ہے۔ انہوں نے قومی سطح پر کانگریس کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں رہتے ہوئے کسی اور نظریہ کے بارے میں غور نہیں کیا جاسکتا لہذا میں نے کانگریس سے دوری اختیار کرلی ہے اور ٹی آر ایس حکومت سے مقابلہ کیلئے نئی حکمت عملی پر کام کروں گا۔ ویشویشور ریڈی چیوڑلہ لوک سبھا حلقہ کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل سی انتخابات میں کانگریس امیدوار چنا ریڈی کے حق میں انہوں نے مہم چلائی کیونکہ وہ چنا ریڈی کے امکانات کو متاثر کرنا نہیں چاہتے تھے۔ کانگریس سے استعفی کی اطلاعات کے ساتھ ہی میڈیا کے مختلف گوشوں میں بی جے پی میں شمولیت کی افواہیں گشت کرنے لگیں۔