سابق سرپنچ اور 150 بی آر ایس کارکنوں کی کانگریس میں شمولیت

   

حکومت پر وعدوں کو فراموش کرنے کا الزام، محمد علی شبیر نے خیرمقدم کیا

کاماریڈی ۔28 اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز )بی آرایس پارٹی سے تعلق رکھنے والے 150 کارکنوں نے سابق سرپنچ نارائنا کے ہمراہ سابق ریاستی وزیر محمد علی شبیر سے ملاقات کرتے ہوئے کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے پر شبیر علی نے ان کا خیر مقدم کیا اور کانگریس پارٹی میں شامل کرلیا ۔ اس موقع پر محمد علی شبیر نے کانگریس میں شامل ہونے والے افراد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بی آرایس حکومت عوام کے سامنے کئے ہوئے وعدوں کو فراموش کردیا اور کہا کہ حکومت ہر محاذ ناکام ہوئی ہے عوام کو دھوکہ دہی کی جارہی ہے علیحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد بے روزگار نوجوان روزگار کی امید لگائے ہوئے تھے اسی لئے تحریک کے دوران نوجوانوں نے جان کی بازی لگاتے ہوئے تحریک کو مستحکم کیا تھا لیکن آج تلنگانہ جاگیرداروں کی گڑی میں بند پڑی ہوئی ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ گریجویٹ طلباء کو بے روزگار ی بھتہ ، اسکول اور کالج میں پڑھنے والے طلباء کو اسکالرشپ فیس ریمبرسمنٹ اور کے جی تا پی جی مفت تعلیم دینے کا اعلان کرتے ہوئے اس سے انحراف کرلیا اور علیحدہ ریاست تلنگانہ میں ہر طبقہ کے ساتھ نا انصافی کی جارہی ہے ۔ تلنگانہ کے قیا م کے بعد اگر کسی کو فائدہ ہوا تو وہ صرف اور صرف کے سی آر کے خاندان کو ہوا ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والے افراد کے ساتھ نا انصافی کی گئی اور تلنگانہ تحریک کے ساتھ دھوکہ دہی کرنے والے افراد کو زبردست فائدہ پہنچایا گیا۔شمولیت سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ کانگریس پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور آئندہ کانگریس حکومت قائم ہوگی اور کانگریس حکومت میں تمام افراد کے ساتھ انصاف کی جائے گی اور کانگریس حکومت میں ہی سنہرا تلنگانہ کا خواب تکمیل ہوگا اس موقع پر ضلع کانگریس صدر کے سرینواس رائو کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے۔