حیدرآباد۔/14 ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی جانب سے ان دنوں دلتوں پر مہربانی کا سلسلہ جاری ہے۔ حضورآباد اسمبلی حلقہ میں قابل لحاظ دلت آبادی کے پیش نظر حکومت نے نہ صرف دلت بندھو اسکیم کا آغاز کیا بلکہ علاقہ سے تعلق رکھنے والے دلت قائدین کو اہم عہدے دیئے جارہے ہیں۔ دلتوں میں مقبولیت رکھنے والے ایک اور سابق وزیر ایم نرسمہلو ان دنوں چیف منسٹر کے سی آر سے قربت اختیار کرچکے ہیں۔ اگرچہ نرسمہلو نے بی جے پی سے علحدگی اختیار کرلی لیکن ٹی آر ایس میں باقاعدہ شمولیت اختیار نہیں کی باوجود اس کے وہ دلت بندھو اسکیم کے بارے میں چیف منسٹر کے اجلاسوں میں شرکت کررہے ہیں۔ چیف منسٹر انہیں غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے اپنے بازو کی نشست فراہم کررہے ہیں جس سے یہ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ نرسمہلو بہت جلد ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلیں گے۔ نرسمہلو کی شناخت تلنگانہ میں دلت چہرہ کی حیثیت سے ہے اور توقع ہے کہ چیف منسٹر انہیں کوئی اہم عہدہ بھی دیں گے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق دلت بندھو اسکیم پر عمل آوری کیلئے کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے نرسمہلو کو صدرنشین مقرر کیا جاسکتا ہے۔بھونگیر کے آلیر اسمبلی حلقہ سے تعلق رکھنے والے نرسمہلو نے تلگودیشم سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا۔ نرسمہلو تلگودیشم میں کسی اہم عہدہ کے خواہاں تھے اور چندرا بابو نائیڈو نے انہیں گورنر کے عہدہ کا تیقن دیا تھا لیکن تلنگانہ کی تشکیل کے سبب یہ ممکن نہیں ہوسکا۔ توقع ہے کہ ٹی آر ایس میں نرسمہلو کا اہم عہدہ والا خواب پورا ہوگا۔R