آئی اے ایس عہدیداروں کی ٹیم تشکیل، مندر کی اراضی پر قبضہ کا الزام
حیدرآباد: حکومت نے سابق وزیر ای راجندر کے خلاف دوسری تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ میدک ضلع کے اچم پیٹ میں کمزور طبقات کو الاٹ کردہ اراضی حاصل کرنے کے معاملہ میں ضلع کلکٹر ، فاریسٹ اور ویجلنس عہدیداروں کے ذریعہ رپورٹ طلب کرنے کے بعد حکومت نے میڑچل ، ملکاجگری ضلع میں شاہ میر پیٹ منڈل کے تحت سری سیتا راما سوامی مندر کی اراضی پر قبضہ کی شکایات کی جانچ کیلئے آئی اے ایس عہدیداروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ چیف سکریٹری سومیش کمار نے اس سلسلہ میں جی او آر ٹی 1014 جاری کیا ۔ ایم رگھونندن راؤ آئی اے ایس کمشنر پنچایت راج کی قیادت میں تشکیل دی گئی تحقیقاتی ٹیم میں پرشانت جیون پاٹل کلکٹر نلگنڈہ ، بھارتی ہولی کیری کلکٹر منچریال اور شویتا موہنتی کلکٹر ملکاجگری کو بطور ارکان شامل کیا گیا ہے ۔ کمیٹی سے خواہش کی گئی ہے کہ جلد سے جلد رپورٹ پیش کرے۔ جی او کے مطابق مندر کی اراضی پر ناجائز قبضوں کے سلسلہ میں حکومت کو شکایات موصول ہوئیں۔ محکمہ انڈومنٹ کے مطابق مندر کے تحت 1521 ایکر اور 13 گنٹے اراضی موجود ہے۔ 2 مئی کو میڈیا کے بعض گوشوں میں سابق وزیر ای راجندر کی جانب سے مندر کی اراضی پر قبضے سے متعلق رپورٹس شائع کی گئیں۔ حکومت نے اس معاملہ کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے ۔ واضح رہے کہ اچم پیٹ ضلع میدک کی ارا ضی کے معاملہ میں ضلع کلکٹر کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں راجندر پر 66 ایکر اراضی ناجائز طورپر قبضہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔