سابق چیف سکریٹری اے پی مرکزی حکومت میں خدمت انجام دینے کوشاں

   

وائی ایس آر کانگریس حکومت سے ٹکراؤ پر فیصلہ، غیر اہم عہدہ سونپنے پر طویل رخصت کا حصول

حیدرآباد۔17نومبر(سیاست نیوز) سابق چیف سیکریٹری آندھرا پردیش نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ اب دوبارہ آندھرا پردیش میں خدمات انجام نہیں دیں گے اور اپنی مابقی خدمات کیلئے وہ مرکزی حکومت میں جگہ تلاش کررہے ہیں۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش مسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی سے ٹکراؤ کے بعد انہیں چیف سیکریٹری آندھرا پردیش کے عہدہ کے ہٹاتے ہوئے ایک غیر اہم عہدہ پر تبادلہ کیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس عہدہ کا جائزہ حاصل نہیں کیا اور ایک ماہ طویل رخصت پر چلے گئے۔ بتایاجاتا ہے کہ انہیں 6 ڈسمبر سے قبل اپنی خدمات سے رجوع ہوتے ہوئے جائزہ حاصل کرنا ہے لیکن کہا جا رہاہے کہ وہ اب نہیں چاہتے کہ آندھرا پردیش میں خدمات انجام دیں اسی لئے وہ اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں مرکزی حکومت میں کوئی عہدہ حاصل ہوجائے اور وہ وہاں خدمات انجام دیتے ہوئے خدمات سے سبکدوشی اختیار کریں لیکن بتایا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت کے کسی بھی محکمہ میں ایک سال سے کم معیاد رکھنے والے عہدیدارو ںکونامزد نہیں کیا جاتا اور مسٹر ایل وی سبرامنیم کی خدمات کے ابھی صرف 5ماہ باقی ہیں۔ ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق مسٹر ایل وی سبرامنیم کی جانب سے اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ کسی بھی طرح سے دہلی پہنچ جائیں اور انہیں وہاں سے سبکدوشی اختیار کرنی پڑے کیونکہ وہ اپنے احباب سے اس بات کا تذکرہ کر رہے ہیں کہ انہیں اب آندھرا پردیش میں خدمات انجام نہیں دینی ہے اور نہ ہی وہ آندھرا پردیش میں خدمات کی انجام دہی کیلئے کسی بھی عہدہ کا جائزہ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ اتنے اہم عہدہ پر فائز کئے جانے اور خدمات کی انجام دہی کے بعد کسی آئی اے ایس عہدیدار کو غیر اہم عہدہ پر تبادلہ کرنے کے اقدامات کئے گئے ہیں اسی لئے وہ دلبرداشتہ ہیں اور اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں آندھرا پردیش کے سواء کسی بھی ریاست کے کیڈر میں خدمات انجام دیتے ہوئے وظیفہ پر سبکدوش ہونے کا موقع میسرآجائے۔ مسٹر ایل وی سبرامنیم کے چیف منسٹر آندھرا پردیش مسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کے بعد انہیں چیف سیکریٹری سے عہدہ سے ہٹاتے ہوئے آندھرا پردیش فروغ انسانی وسائل کی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی جسے انہوں نے قبول نہیں کیا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ اگر انہیں مرکزی حکومت میں کوئی موقع نہیں ملتا ہے تو ایسی صورت میں وہ اپنی رخصت کو طویل کرتے رہیں گے لیکن اس کے بعد انہیں وظیفہ پر سبکدوشی سے قبل کم از کم ایک دن کیلئے اپنی ذمہ داریوں کا جائزہ لیتے ہوئے سبکدوش ہونا پڑے گا اسی لئے وہ اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں آندھرا پردیش سے سبکدوش ہونا نہ پڑے بلکہ مرکزی حکومت کے کسی محکمہ میں خدمات انجام دیتے ہوئے سبکدوش ہوجائیں۔