سابق چیف منسٹر کے سی آر کو پولیس ہراسانی کیخلاف آج ریاست گیر احتجاج

   

حکومت کے پتلے نذرآتش کرنے کا فیصلہ، دیوار پر نوٹس چسپاں کرنے پر سربراہ بی آر ایس کی ناراضگی
حیدرآباد۔31جنوری(سیاست نیوز) مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو پولیس ہراسانی کے خلاف بی آر ایس یکم فروری کو ریاست بھر کے تمام 12ہزار مواضعات میں احتجاجی پروگرام منظم کرتے ہوئے حکومت کے پتلے نذرآتش کرے گی۔اسی دوران سابق چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ایس آئی ٹی کے نگران عہدیدار اے سی پی کو جوابی مکتوب روانہ کرتے ہوئے ان کے مکان کی دیوار پر نوٹس چسپاں کئے جانے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ یکم فروری کو تین بجے ایس آئی ٹی کی تفتیش کے لئے اپنے مکان پر دستیاب رہیں گے۔انہوں نے 6صفحات پر مشتمل اپنے جوابی مکتوب میں قانونی اعتراضات کے باوجود تفتیش کے لئے آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے ایس آئی ٹی کے رویہ کو قابل مذمت قرار دیا اور کہا کہ وہ قائد اپوزیشن اور ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے تفتیش میں تعاون کے لئے تیار ہیں۔ بھارت راشٹرسمیتی کے سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو فون ٹیپنگ معاملہ میں ایس آئی ٹی کی جانب سے جاری کی گئی نوٹس پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومت کی بدنیتی اور پولیس کے ظلم کے مترادف اقدام قرار دیا اور کہا کہ یکم فروری کو بی آر ایس ریاست بھر میں احتجاجی مظاہروں کے ذریعہ ریاستی حکومت کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے خلاف مظاہرہ کرے گی۔ بتایاجاتاہے کہ بی آر ایس قائدین نے آج اس سلسلہ میں مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ کے سی آر کو ایس آئی ٹی کی نوٹس جاری کئے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کو اس احتجاج میں شامل کیا جائے کیونکہ پولیس کی جانب سے قائد اپوزیشن کی عمر کا لحاظ نہیں کیا جا رہاہے اور ان کی جانب سے ایراولی میں تفتیش میں شامل ہونے کے لئے آمادگی کے باوجود ان کی درخواست کو مسترد کئے جانے اور ان کے مکان واقع نندی نگر کی دیوار پر نوٹس چسپاں کئے جانے کے معاملہ میں بی آر ایس قائدین نے پولیس کے رویہ کو قابل مذمت قرار دیا۔ بتایاجاتا ہے کہ بی آ رایس نے تلنگانہ کے کیڈر کو اپنے اپنے مقامات پر حکومت کے پتلے نذر آتش کرنے کے علاوہ انہیں یکم فروری کو دن میں ہزاروں کی تعداد میں تلنگانہ بھون پر جمع ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔بتایاجاتاہے کہ سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ایس آئی ٹی کی جانب سے ان کے مکان کی دیوار پر چسپاں کی گئی نوٹس پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شدید قانونی اعتراضات کے باوجود وہ یکم فروری کو 3 بجے نندی نگر پر اپنے مکان پر دستیاب رہیں گے۔ انہو ںنے اپنے جواب میں ایس آئی ٹی کو اپنی ناراضگی کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی ایماء پر جو کوششیں کی جا رہی ہیں ان میں ایس آئی ٹی اورحکومت تلنگانہ بری طرح سے ناکام ہوگی۔ ذرائع کے مطابق کے سی آر نے اپنے مکتوب میں ایس آئی ٹی کے رویہ کو توہین عدالت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی حرکتیں توہین عدالت اور ان کے شخصی وقار کو پامال کرنے کے مترادف ہیں لیکن اس کے باوجود وہ ایس آئی ٹی کی تفتیش میں تعاون کے لئے تیار ہیں۔ سابق چیف منسٹر وسربراہ بی آر ایس مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے مکتوب میں یہ واضح کیا کہ ایس آئی ٹی کے نگران اے سی پی وینکٹ گیری کے پاس ان سے تفتیش کا اختیار نہیں ہے اس کے باوجود وہ انہیں مسلسل نوٹس جاری کرتے ہوئے تفتیش کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں تو وہ ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے تحقیقات میں تعاون کے لئے تیار ہیں۔ بھارت راشٹریہ سمیتی نے تلنگانہ بھر میں جو احتجاج کا اعلان کیا اس کے متعلق کہا جارہا ہے کہ سربراہ بی آر ایس کی تفتیش کے دوران ریاست بھر میں بی آرایس کی جانب سے ریاستی حکومت کے پتلے نذرآتش کئے جائیں گے اور مختلف مواضعات میں ایس آئی ٹی کی جانب سے کی جانے والی کاروائیوں پر احتجاج کیا جائے گا۔ کارگذار صدر بی آر ایس مسٹر کے ٹی راما راؤ نے کے سی آر کی ایراولی میں تفتیش کی درخواست کو مسترد کئے جانے اور ان کے نندی نگر کے مکان کی دیوار پر نوٹس چسپاں کئے جانے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس حکومت کے اشاروں پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی مرتکب بن رہی ہے اور تلنگانہ عوام اپنے قائد کو کی جانے والی ہراسانی پر خاموش تماشائی نہیں رہیں گے۔ مسٹر کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ ایس آئی ٹی نے قائد اپوزیشن کی درخواست کو مستردکرنے کے بعد ان کے مکان کی دیوار پر نوٹس چسپاں کرتے ہوئے ان کی تذلیل کی کوشش کی ہے جبکہ سابق چیف منسٹر نے بلدی انتخابات کا عمل مکمل ہونے کے بعد ایس آئی ٹی کی تفتیش میں تعاون کے لئے آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی درخواست کی تھی کہ وہ اپنے ایراولی فارم ہاؤز پر تفتیش کے لئے دستیاب رہیں گے ۔مسٹر کے ٹی راما راؤ نے ایس آئی ٹی کی نوٹس کا جواب دیئے جانے کے باوجود دوبارہ نوٹس کی اجرائی کو متکبر انہ ذہنیت اور اقتدار کا رعب دکھانے کی غیر قانونی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جانب سے کی جانے والی اس ہراسانی کے خلاف وہ اور ان کی پارٹی کے ساتھ عوام احتجاج کریں گے تاکہ ریاستی حکومت کو یہ پیغام دیا جاسکے کہ ان کی غیر جمہوری طرز حکمرانی کو عوامی تائید حاصل نہیں ہوسکتی۔3