سابق کارپوریٹر و تلگودیشم قائد محمد مظفر علی خان کی کانگریس میں شمولیت

   

صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی سے گہرے مراسم کے بعد قیاس آرائیاں

حیدرآباد۔27۔ستمبر۔(سیاست نیوز) سابق کارپوریٹرو تلگو دیشم قائد جناب محمد مظفر علی خان نے کانگریس میں شمولیت کا فیصلہ کرتے ہوئے تلگو دیشم پارٹی سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے اور جلد ہی وہ کانگریس میں شمولیت اختیار کریں گے۔ جناب محمد مظفر علی خان جو کہ حلقہ اسمبلی ملک پیٹ سے دو مرتبہ مقابلہ کرچکے ہیں ان کے تلگو دیشم پارٹی سے ہی صدر پردیش کانگریس مسٹر اے ریونت ریڈی سے گہرے مراسم کے سبب یہ کہا جا رہاہے کہ وہ کسی بھی وقت تلگو دیشم سے مستعفی ہوتے ہوئے کانگریس میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے مسٹر اے ریونت ریڈی کو صدر پردیش کانگریس تلنگانہ بنائے جانے پر ان سے ملاقات کرتے ہوئے مبارکباد پیش کی تھی اور اسی وقت ریونت ریڈی نے انہیں پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی لیکن انہوں نے مناسب وقت پر فیصلہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس سلسلہ میں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کریں گے۔ریاست بھر میں کانگریس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ جناب محمد مظفر علی خان نے تلگو دیشم پارٹی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے اور جلد ہی وہ اپنے حامیوں کے ہمراہ کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے۔ذرائع کے مطابق جناب محمد مظفر علی خان نے 17 ستمبر کو شہر حیدرآباد میں کانگریس کے جلسہ عام کے دوران ہی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن کانگریس کے اجلاس کے انعقاد سے عین قبل صدرتلگودیشم پارٹی مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کی گرفتاری کے بعد پیدا شدہ حالات کے نتیجہ میں وہ خاموش ہوگئے تھے لیکن اب انہوں نے پارٹی جنرل سیکریٹری کو اپنا مکتوب استعفیٰ روانہ کرتے ہوئے پارٹی سے علحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔جناب محمد مظفر علی خان نے اس سلسلہ میں دریافت کرنے پر کہا کہ ملک کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور یکجہتی کی ضرورت ہے اس کے علاوہ فرقہ پرست قوتوں کو اقتدار سے بے دخل کرنا ضروری ہے اسی لئے انہوں نے تلگو دیشم سے علحدگی کا فیصلہ کیا ہے اور جلد ہی کانگریس میں شمولیت کے سلسلہ میں وہ قطعی تاریخ کا اعلان کریں گے۔