اراضیات کے معاملہ میں کسانوں سے ناانصافی
ریونت ریڈی اور محمد علی شبیر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔16۔نومبر (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے شہر کے مضافاتی علاقوں میں اراضیات کی فروخت میں بڑے پیمانہ پر بے قاعدگیوں کا الزام عائد کیا۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی اور پولیٹیکل افیرس کمیٹی کے کنوینر محمد علی شبیر نے گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سدی پیٹ کے سابق کلکٹر وینکٹ رام ریڈی کی بے قاعدگیوں کی جانچ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وینکٹ رام ریڈی نے کلکٹر کی حیثیت سے اراضی معاملات میں کئی بے قاعدگیاں کی ہیں اور انہوں نے برسر اقتدار پارٹی کارکن کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔ کلکٹر کی حیثیت سے استعفیٰ کے دوسرے ہی دن وینکٹ رام ریڈی کو ایم ایل سی کی نشست اس بات کا ثبوت ہے کہ برسر اقتدار پارٹی سے ان کی ملی بھگت تھی۔ انہیں کونسل کی رکنیت کے بعد کابینہ میں شامل کرنے کی اطلاعات گشت کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل سی امیدواروں کے انتخاب میں تلنگانہ تحریک سے وابستہ افراد کو نظر انداز کردیا گیا۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ 1994 ء سے آج تک وینکٹ رام ریڈی کی بے قاعدگیوں کی طویل فہرست ہے۔ کانگریس دور حکومت میں آؤٹر رنگ روڈ کے لئے کسانوں کی اراضیات کے معاملہ میں دھاندلیاں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ روشیا اور کرن کمار ریڈی کے دور چیف منسٹری میں چتور ضلع کی ترقی کے نام پر بھاری کرپشن میں ملوث رہے۔ سرسلہ اور سدی پیٹ میں کسانوں کے ساتھ ناانصافی کیلئے وینکٹ رام ریڈی ذمہ دار ہیں۔ ان پر توہین عدالت کے کئی مقدمات ہیں۔ ر
کانگریس پارٹی نے سدی پیٹ اور کاما ریڈی کلکٹرس کے خلاف صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے شکایت کی ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ وینکٹ رام ریڈی اور شرد نے چیف منسٹر کے پیر چھوتے ہوئے آل انڈیا سرویس رولس کی توہین کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں کلکٹرس کے خلاف قانونی جدوجہد کی جائے گی۔ ر
